Back to Learning Plan
"کیا میں مخلص ہوں؟": ہر عمل کو خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے کرنے کی اہمیت
Day 1: نمایاں ہونے کی طلب – ہم دوسروں سے اپنی قدر منوانے (Validation) کے خواہش مند کیوں ہوتے ہیں؟
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
ہر انسان یہ تمنا رکھتا ہے کہ اسے دیکھا جائے، سراہا جائے اور اس کی قدر کی جائے۔ لیکن آج کی دنیا میں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے، یہ فطری خواہش اکثر عوامی مقبولیت کی پیاس بن جاتی ہے۔ ہم اپنی قدر و قیمت کا اندازہ فالوورز، لائکس، تبصروں اور تعریفوں سے لگانے لگتے ہیں۔ مگر قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے: اگر ہم دنیاوی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی عمل کریں گے، تو ہو سکتا ہے وہ ہمیں مل جائے، لیکن ہم اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز کھو سکتے ہیں۔ لوگوں کی جانب سے ملنے والی داد اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ہمارا خالق بھی ہم سے راضی ہے؛ جبکہ حقیقت میں صرف اُسی کی رضا اہمیت رکھتی ہے۔
سورۃ الدہر (الإنسان: 8-11) اُن نیک لوگوں کا نقشہ کھینچتی ہے جنہیں عوامی تعریف کے لیے نہیں بلکہ خالص خدمت کے بدلے انعام دیا جاتا ہے—وہ لوگ جو شکریہ یا پہچان کی طلب کے بغیر عطا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، اور یہ سب صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں، نہ تو وہ بدلے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور نہ ہی فائدہ اٹھانے والوں سے شکریہ کے طالب ہوتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر ظاہر کرتا ہے کہ ایک مومن کا صدقہ دینے یا کوئی بھی نیک عمل کرنے کا مقصد اللہ کے گہرے شعور اور خالصتاً اللہ کی خوشنودی میں چھپا ہوتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو پا لیتے ہیں کہ ان کے اخلاص کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ انہیں (قیامت کے) اس دن کی ہولناکی سے بچا لے گا اور ان کے اخلاص کی بدولت انہیں تازگی اور مسرت عطا فرمائے گا۔ انہوں نے لوگوں سے معاملہ کرنے سے پہلے اللہ سے اپنا سودا کر لیا تھا۔
ہو سکتا ہے بہت سے لوگ زیادہ لائکس، شہرت یا اسی طرح کی دیگر چیزوں سے متاثر ہوتے ہوں، مگر وہ سوال جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: کیا واقعی یہ اس قابل ہے؟ کہ اس دنیا کی عارضی اور خیالی خوشی کو پانے کے لیے آخرت کی حقیقی اور دائمی خوشی کو کھو دیا جائے؟
اسی طرح، آیت (98:5) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ: آپ کی قدر و قیمت لوگوں کی نظروں میں نہیں بلکہ اللہ کے حضور آپ کے اخلاص میں ہے۔ آپ کی قدروقیمت کا تعین اور اعلان تو اللہ پہلے ہی کر چکا ہے جب اس نے فرمایا کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت/ شکل و صورت (بہترین تقویم) پر پیدا کیا ہے (95:4)۔ صرف اسی کی رضا تلاش کریں، کیونکہ حقیقی بندگی وہی ہے جو خالص ہو، سیدھی ہو اور لوگوں سے داد پانے کی محتاج نہ ہو۔
دوسروں کی طرف سے ملنے والی داد اور تائید عارضی ہے؛ یہ وقت کے رجحانات، لوگوں کی آراء اور جذبات کے ساتھ بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے ملنے والی تائید ابدی ہے۔ وہ اسے بھی دیکھتا ہے جو چھپا ہوا ہے، اسے بھی جسے نظر انداز کر دیا گیا، اور اسے بھی جس کا صلہ (دنیا میں) نہیں ملا۔ اور صرف وہی ہے جو اس دنیا میں بھی جزا دے سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔
اگر آپ کی قدر و قیمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دوسرے آپ کو کیسے دیکھتے ہیں، تو آپ ہمیشہ خود کو کمزور محسوس کریں گے۔ لیکن اگر اس کا رخ اس طرف ہے کہ اللہ آپ کو کیسے دیکھتا ہے، تو آپ غیر متزلزل ہو جائیں گے۔ آپ اس دنیا میں اپنے مقصد سے نہیں بھٹکیں گے، اور آپ اپنے ہر عمل میں ایک ایسی بیداری پیدا کر لیں گے جس میں آپ کو یہ پورا یقین ہوگا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے (الرقيب ہے)، اور وہ آپ کے نیک اعمال کی قدر کرنے والا ہے۔
حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے لوگوں کی ناراضگی کے باوجود اللہ کی رضا چاہی، اللہ اسے لوگوں کی تکلیف سے بچانے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی خوشنودی چاہی، اللہ اسے لوگوں کے ہی حوالے کر دے گا۔"
(جامع ترمذی، حدیث: 2414)
عملی سرگرمی
آج اپنی نیتوں کا جائزہ لیں: کسی بھی ایک عمل کا انتخاب کریں، چاہے وہ انٹرنیٹ پر کچھ پوسٹ کرنا ہو، مخصوص طریقے سے لباس پہننا ہو، یا عوامی سطح پر کوئی بات شیئر کرنی ہو۔ اس عمل سے پہلے ذرا رکیں اور خود سے پوچھیں: "اگر اللہ کے سوا کوئی بھی مجھے نہ دیکھ رہا ہوتا یا میری تعریف نہ کرتا، تو کیا میں تب بھی یہ عمل اسی طرح کرتا؟" اس سوال کو اپنے رویے کی سمت متعین کرنے دیں۔
دعا
قرآنِ کریم سے
رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًۭا تَرْضَىٰهُ وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِين
"اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور یہ کہ میں اچھے اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور مجھے داخل کرنا اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں۔" (سورہ النمل، آیت: 19)
تدبر کا سوال
"وہ کون سے پہلو ہیں جن میں، میں نے اللہ کی رضا سے بڑھ کر لوگوں کی توجہ اور داد و تحسین پانے کی تڑپ شروع کر دی ہے؟"
"کیا میں واقعی اس کے بندے ہونے پر اس قدر شکر اور فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کسی دوسرے کی توجہ کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو؟"