Back to Learning Plan
اللہ کے محبوب بندے: وہ اوصاف جن سے رحمٰن محبت فرماتا ہے
Day 5: اللہ کی محبت کے لئے روزانہ کی زندگی
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
اللہ کی محبت کے لیے جینا محض ایک روحانی تمنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عملی اور روزانہ کا عہد ہے۔ ہر لمحہ ہمیں یا تو اس کے قریب کر سکتا ہے یا اس سے دور۔ مقصد کمال (perfection) حاصل کرنا نہیں بلکہ استقامت ہے: یعنی ہر بار گرنے کے بعد اٹھنا اور اس کے راستے میں جدوجہد جاری رکھنا۔
سورہ آل عمران (3:31) ہمیں اس تلاش کا اصل جوہر بتاتی ہے: یعنی نبی کریم ﷺ کی سچے دل سے پیروی کریں، تو اللہ آپ سے محبت کرے گا۔
یہ صرف ظاہری تقلید تک محدود نہیں بلکہ اخلاق، ہمدردی، عدل، رحمت اور بندگی کے ذریعے ایک اندرونی تبدیلی کا نام ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے عملی نمونہ پیش کیا۔
سورہ القمر (54:55-54) میں اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے آخری اعزاز کا تذکرہ فرمایا ہے: یعنی نہایت طاقتور بادشاہ کے حضور عزت کی جگہ۔ ان لوگوں کے لیے کیا ہی عظیم صلہ ہے جو اس کی محبت کے لیے خلوص کے ساتھ جیے۔
اور سورہ العنکبوت (29:69) میں اللہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس کی ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کوشش کرتے ہیں۔ 'مجاہدہ' (اللہ کی راہ میں جدوجہد) صرف جنگوں کا نام نہیں؛ بلکہ یہ اپنے نفس کے خلاف لڑنے، اشتعال کے وقت زبان کو روکنے، زیادتی ہونے پر معاف کرنے، اور مشکل کے باوجود اللہ کی رضا کو منتخب کرنے کا نام ہے۔ اللہ ان لوگوں کو اپنی رفاقت کا یقین دلاتا ہے جو کوشش کرتے ہیں۔ وہ 'محسنین' (احسان اور عمدگی کے ساتھ نیکی کرنے والوں) کے ساتھ ہے۔
جب اللہ آپ سے محبت کرتا ہے، تو اس کی محبت آپ کے دل میں محسوس ہوتی ہے، آپ کے اعمال سے جھلکتی ہے، اور اس کی مشیت سے بہترین نتائج کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ آپ کی گفتگو میں نرمی پیدا کرتی ہے، آپ کی نیتوں کو پاک کرتی ہے، اور آپ کے مقاصد کو آخرت کے تابع کر دیتی ہے۔ آپ ان چیزوں کی تڑپ محسوس کرنے لگیں گے جو آپ کو اس کے قریب کرتی ہیں اور ان کاموں سے بے چین ہوں گے جو آپ کو اس سے دور کرتے ہیں۔
اس آخری سبق کو اپنے لیے ایک نئی شروعات بنائیں۔ آپ نے ان صفات کو دیکھ لیا ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے، اب ان کے مطابق جینا شروع کریں: کثرت سے توبہ کریں، عاجزی کے ساتھ چلیں، انصاف پر قائم رہیں، اس پر بھروسہ کریں، اور سچے دل سے نبی کریم ﷺ کی پیروی کریں۔
اور یاد رکھیں: کامیاب ترین لوگ وہ نہیں ہوتے جو کبھی ناکام نہ ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو پلٹ کر (توبہ کر کے) آنے سے کبھی نہیں رکتے۔
حدیث
نبی ﷺ نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے“ (جس کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کی بعض صورتوں میں پانی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔)
(سنن الترمذی 2036)
یہ سکھاتا ہے کہ کبھی اللہ کی محبت کسی چیز کو روکنے میں بھی ہوتی ہے حفاظت کے لیے، بہتری کے لیے، آخرت کے لیے۔
اللہ کی محبت کے بعد انسان سمجھنے لگتا ہے کہ:
تاخیر = حکمت
رکاوٹ = حفاظت
تکلیف = پاکیزگی
دعا
اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبِ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي.
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ،
وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ،
وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى،
وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ،
وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ،
وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ،
وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ،
وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ،
وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ،
فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ،
وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ.
اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ،
وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ.
ترجمہ:
اے اللہ! اپنے علمِ غیب اور کائنات پر اپنی قدرت کے ساتھ
اگر زندگی میرے لیے بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ،
اور اگر موت بہتر ہے تو مجھے وفات دے۔
اے اللہ! مجھے تنہائی اور لوگوں کے سامنے یکساں اپنا خوف عطا فرما،نرمی اور غصے دونوں حالتوں میں حق کہنے کی توفیق دے،
تنگی اور وسعت میں اعتدال عطا فرما،
ایسی نعمت عطا کر جو کبھی ختم نہ ہو،
ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک دے جو کبھی ختم نہ ہو،
اور اپنے فیصلوں کے بعد دل کو رضا سے بھر دے۔
اے اللہ! موت کے بعد کی زندگی کو میرے لیے راحت بنا دے،
اپنے چہرے کے دیدار کی لذت عطا فرما،
اور اپنی ملاقات کا سچا شوق عطا فرما
ایسی حالت میں کہ نہ کوئی تکلیف ہو اور نہ کوئی گمراہ کرنے والی آزمائش۔
اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت عطا فرما،
اور ہمیں وہ بنا جو ہدایت دیں اور ہدایت پر قائم رہیں۔
عملی سرگرمی:
اپنے رخ کا تعینِ نو کریں: گزشتہ پانچ دنوں میں بیان کی گئی صفات کا جائزہ لیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں اور پورے اخلاص اور استقامت کے ساتھ 30 دن تک اس پر عمل کریں۔
اپنے دن کا محاسبہ کریں: ہر رات خود سے پوچھیں: "کیا آج میں اللہ کی محبت کی طرف بڑھا یا اس سے دور ہوا؟" اور کل کے لیے اپنی نیت کی اصلاح کریں۔
تدبر کا سوال
اگر میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت بن جائے
تو میرے روزمرہ فیصلے، رویّے، اور ترجیحات کیسے بدل جائیں گی؟