Back to Learning Plan
اللہ کے محبوب بندے: وہ اوصاف جن سے رحمٰن محبت فرماتا ہے
Day 4: اللہ کے محبوب بندوں کا کردار
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
اللہ کی محبت صرف جائے نماز اور تنہائی کی عبادت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اظہار دوسروں کے ساتھ ہمارے برتاؤ سے ہوتا ہے۔
عدل و انصاف، توکل اور عاجزی وہ صفات ہیں جنہیں اللہ نے اپنی محبوب صفات قرار دیا ہے۔
عدل
سورہ المائدہ (5:42) میں 'مقسطین' (انصاف کرنے والوں) کی تعریف کی گئی ہے۔
اسلام میں انصاف انتخابی یا حالات کے تابع نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حق بات کہی جائے چاہے وہ ہمارے اپنے یا پیاروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، کاروبار، قیادت اور روزمرہ کے معاملات میں منصف رہا جائے، اور مظلوم کا دفاع کیا جائے۔
قرآن کہتا ہے: “ان میں صلح کراؤ انصاف کے ساتھ، اور عدل سے کام لو۔ بے شک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔” (الحجرات 49:9)
توکل
سورہ آل عمران (3:159) میں اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں، یعنی 'اہلِ توکل'۔ یہ وہ لوگ نہیں جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؛ بلکہ وہ کوشش کرتے ہیں، منصوبہ بندی کرتے ہیں اور محنت کرتے ہیں، لیکن ان کے دل اللہ کے فیصلے پر مطمئن ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نتائج صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ توکل اس کسان کی مانند ہے جو بیج تو بوتا ہے مگر جانتا ہے کہ بارش صرف اللہ ہی برساتا ہے۔ یہ طوفانوں میں دل کا لنگر ہے۔
عاجزی
پھر وہ صفت آتی ہے جو ان تمام نیکیوں کو جوڑ دیتی ہے: یعنی عاجزی۔
سورہ لقمان (31:18) میں تکبر اور غرور کی مذمت کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ رائی کے دانے برابر بھی تکبر انسان کو جنت سے محروم کر سکتا ہے (سنن ابن ماجہ 59)۔ حقیقی عاجزی کا مطلب اللہ کے سامنے اور اس کی مخلوق کے درمیان اپنی حیثیت کو پہچاننا ہے۔ یہ اس وقت نرمی اختیار کرنا ہے جب آپ غلبہ پانا چاہیں، اس وقت خاموش رہنا ہے جب آپ بڑائی مارنا چاہیں، اور اس وقت سخاوت کرنا ہے جب آپ ہاتھ روکنا چاہیں۔
نبی کریم ﷺ عاجزی کی بلند ترین مثال تھے، جو غریبوں کے ساتھ بیٹھتے، اپنے صحابہ کی مدد کرتے اور ان لوگوں کو معاف کر دیتے جنہوں نے ان پر ظلم کیا ہوتا۔ آپ ﷺ لوگوں کے درمیان انہی میں سے ایک بن کر رہے، حالانکہ آپ ﷺ بہترینِ خلائق تھے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ سے محبت کرے، تو دنیا میں عاجزی کے ساتھ چلیں، اخلاص اور انصاف کے ساتھ دوسروں کی خدمت کریں، اور اپنا بھروسہ اسی پر رکھیں۔
یہ صفات عارضی یا سطحی نہیں ہیں۔ یہ وہ گہری جڑوں والی خصوصیات ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے، اور جو لوگ انہیں اپنا لیتے ہیں، ان سے اللہ کی محبت کا وعدہ ہے۔
حدیث
نبی ﷺ نے فرمایا:
“جو اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم 2588)
عملی سرگرمی:
خاموش عدل کی مشق: آج انصاف کا کوئی ایک ایسا کام کریں جو پوشیدہ ہو اور جس میں تعریف کی تمنا نہ ہو۔ یہ کسی کو اس کا حق دینا، کسی کے حق میں آواز اٹھانا، یا سچے دل سے معذرت کرنا ہو سکتا ہے۔
بھروسہ کریں اور خود کو آزاد کر دیں: کسی ایسے معاملے کی نشاندہی کریں جو آپ کو ذہنی دباؤ دے رہا ہو۔ کہیں: "میرا توکل اللہ پر ہے،" اور اپنی بساط بھر کوشش کرنے کے بعد اسے اللہ کے سپرد کر دیں۔
عاجزی اختیار کریں: گفتگو کے دوران تھوڑا پیچھے ہٹ جائیں اور کسی دوسرے کو بولنے کا موقع دیں۔ کسی کی فرمائش کے بغیر اس کی خدمت کریں۔
دعا
اے اللہ! مجھے اپنا عدل کرنے والا، عاجزی اختیار کرنے والا، اور تجھ پر سچا بھروسہ کرنے والا بندہ بنا دے۔
میری سیرت کو ان صفات سے آراستہ فرما جو تیرے نزدیک محبوب ہیں۔
تدبر کا سوال
کیا میں اللہ کی محبت صرف عبادات میں ڈھونڈتا ہوں، یا روزمرہ معاملات میں بھی ان خوبصورت صفات کو اپنا کر اُس کی محبت کا طالب ہوں؟