Back to Learning Plan
لبیک اللهم لبیک، اللہ کی پکار پر حج کے لیے لبیک کہنا
Day 4: عرفہ: جہاں انسان صرف اپنی حاجت لے کر کھڑا ہوتا ہے
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "حج عرفہ ہی ہے"، جو اس دن کی عظمت (بہت بڑی اہمیت) کو اجاگر کرتا ہے۔
منیٰ کی چہل پہل، کوشش اور (شیطان کے خلاف) مزاحمت کے بعد، اب حاجی بالکل ساکت کھڑا ہوتا ہے، ہاتھ اٹھے ہوئے اور دل (اللہ کے سامنے) کھلا ہوا ہوتا ہے۔ یہ حقیقی اطاعت کا لمحہ ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے زندگی بدل دینے والا تجربہ ہوتا ہے۔ عرفہ یہ سکھاتا ہے کہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ، بندے کو پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اس کے سامنے اپنی مکمل محتاجی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
عرفہ کے دن مرتبہ و مقام ختم ہو جاتا ہے۔ القابات غائب ہو جاتے ہیں اور زبانیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ ہر کوئی ایک جیسا نظر آتا ہے کیونکہ ہر ایک کو ایک ہی چیز کی ضرورت ہوتی ہے: رحمت۔ حاجی وہاں اپنے کارنامے پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنی محتاجی پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عرفہ عظیم عبادت کا دن ہے، خاص طور پر دعا اور سچے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا دن۔
رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ اللہ اس دن (جہنم کی) آگ سے جتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے، اتنے کسی اور دن نہیں فرماتا۔ اس لیے نہیں کہ لوگ کامل (گناہوں سے پاک) ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ سچی توبہ، عاجزی اور اللہ کی رحمت کی امید کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
عرفہ روح کو حیلوں بہانوں سے پاک کر دیتا ہے۔ یہاں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا؛ صرف (اپنے گناہوں کا) اعتراف ہوتا ہے اور اللہ کی مغفرت اور دائمی نجات کے لیے ایک پرخلوص التجا ہوتی ہے۔
جو لوگ حج نہیں کر رہے، ان کے لیے بھی عرفہ ایک کھلا دروازہ ہے۔ اگرچہ عرفات میں وقوف (کھڑے ہونا) حج کا ایک مخصوص رکن ہے، لیکن ہر مومن عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس کی روحانیت میں شریک ہو سکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ خود کو بے گناہ ثابت کرنا چھوڑ دیتے ہیں؛ جب آپ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا بند کر دیتے ہیں؛ جب آپ روزمرہ کے معمولات کے پیچھے چھپنا چھوڑ دیتے ہیں؛ اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اور اللہ کی رحمت و ہدایت کے طلبگار بن کر عاجزی کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
عرفہ روح کو مایوس ہوئے بغیر رونا اور حقدار بنے بغیر امید رکھنا سکھاتا ہے۔
یہ دن حج کے بعد کی زندگی کے لیے بھی ایک خاموش سبق دیتا ہے۔ زندگی میں ایسے لمحات آئیں گے جہاں صرف کوشش کافی نہیں ہوگی؛ ایسے لمحات جہاں بظاہر سارے حل ناکام ہو جائیں گے؛ ایسے لمحات جہاں آخری عمل صرف دعا ہی بچ جائے گا۔ عرفہ سکھاتا ہے کہ دعا میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور اس پر انحصار کرنا خود ایک عظیم عبادت ہے۔
خواہ آپ اس (مقدس) زمین پر کھڑے ہوں یا اپنے کمرے میں، عرفہ آپ کو اپنے دفاعی حصار ختم کرنے اور ہاتھ اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے: ”بے شک میں قریب ہوں... میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں“ (قرآن 2:186)، اور اللہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
حاصلِ کلام: جو شخص اخلاص، توبہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس سے اس کی رحمت کا وعدہ ہے۔
حدیث
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
"کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو۔"
(صحیح مسلم: 1348)
عملی سرگرمی
یہ عملی سرگرمی عرفہ کے دن دعا، عاجزی اور اللہ سے قرب کے احساس کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
عمل:
عرفہ کے دن، دعا کے لیے ایک خاص اور بلا تعطل وقت مختص کریں، خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ہو سکے تو کھڑے ہو جائیں۔ قبلہ رخ ہو جائیں اور اپنے ہاتھ اٹھا لیں۔
ان باتوں پر توجہ دیں:
مغفرت اور معافی مانگنا
ہدایت کا طلبگار ہونا
ان چیزوں کا سوال کرنا جو واقعی آپ کو اللہ کے قریب کر دیں
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ عرفہ کی اصل روح اور باطن کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ دکھاوے مقابلے میں (اللہ کے سامنے اپنی) محتاجی کو اولیت دیتا ہے۔
یہ عاجزی کے ذریعے آپ کو دوبارہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔
یہ خلوصِ دل کو ابھرنے اور سامنے آنے کا موقع دیتا ہے۔
اضافی سرگرمی:
اگر آپ حجاجِ کرام میں شامل نہیں ہیں، تو یقینی بنائیں کہ کم از کم اس ایک دن کا روزہ ضرور رکھیں۔
دعا
لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور یقیناً میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(قرآن 21:87)
تدبر کا سوال
اگر آج آپ بغیر کسی مدافعت اور بغیر کسی وضاحت کے اللہ کے حضور کھڑے ہوں، تو آپ کا دل آخر کار کس سچائی کا اعتراف کرے گا؟