Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Back to Learning Plan

تخلیقِ زوجین: ازدواجی زندگی میں رحمت اور درگزر

1: نکاح کی مقدس بنیاد
2: تلخی کے لمحات میں دوبارہ رحمدلی تلاش کرنا
3: دل کی زبان
4: معاف کر دو، کیونکہ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
5: سکون والا گھر

Back to Learning Plan

تخلیقِ زوجین: ازدواجی زندگی میں رحمت اور درگزر

Day 3: دل کی زبان

قرآنی آیات

سبق اور تدبر

بہت سی شادیاں کسی بڑی بے وفائی کی وجہ سے نہیں، بلکہ لاپرواہی سے بولے گئے چھوٹے چھوٹے الفاظ کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ وہ زبان جو کبھی "میں تم سے محبت کرتا ہوں (یا کرتی ہوں)" کہتی تھی، ڈنگ مارنے لگتی ہے، اور دل شکر گزاری کے بجائے دفاعی انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں اچھے الفاظ کہنے کی دعوت دیتا ہے، جو نہ صرف سچے ہوں بلکہ مہربان، شفا بخش اور باوقار بھی ہوں۔

​شادی میں گفتگو کا مطلب زیادہ باتیں کرنا نہیں ہے؛ بلکہ 'احسان' (بہترین انداز) کے ساتھ بات کرنا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواجِ مطہرات سے بات کرتے، تو وہ کبھی چلاتے نہیں تھے، نہ مذاق اڑاتے تھے اور نہ ہی ان کی بات کو نظر انداز کرتے تھے۔ آپ ﷺ پوری توجہ سے سنتے، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے، اور ان کے جذبات کی قدر فرماتے تھے۔ جب حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) رنجیدہ ہوتیں، تو آپ ﷺ اس کا احساس کرتے۔ جب وہ آپ ﷺ کے ساتھ دوڑ لگانا چاہتیں، تو آپ ﷺ ان کے ساتھ دوڑ لگاتے۔ آپ ﷺ کا اندازِ گفتگو توجہ اور محبت کا مجموعہ تھا: یہ وہ دو اجزاء ہیں جو آج کل کے گھر اکثر کھو دیتے ہیں۔    

قرآنِ کریم میں "کلمہ طیبہ" (پاکیزہ بات) کو ایک درخت سے تشبیہ دینا نہایت پُر اثر ہے۔ الفاظ دراصل بیج ہیں۔ اگر آپ مہربانی بوئیں گے، تو آپ اعتماد کی فصل کاٹیں گے۔ اگر آپ طنز بوئیں گے، تو آپ کو رنجش ملے گی۔ بہت سے گھر ناخوشگوار گفتگو کے بوجھ تلے دم توڑ دیتے ہیں: ٹھنڈی آہیں، آنکھیں دکھانا، یا حقارت آمیز لہجہ۔ لیکن جب گفتگو میں نرمی آتی ہے، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، تو دل دوبارہ کھل اٹھتے ہیں۔

​بہترین گفتگو کا مطلب 'رحمت' کے ساتھ سننا بھی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: "میں تو صرف اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔" (الادب المفرد، حدیث: 273)۔ اخلاق کی یہ تکمیل اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کو کس طرح سنبھالتے ہیں—دفاعی انداز اپنانے کے بجائے صبر کے ساتھ۔ کسی کی بات کاٹے بغیر سننا بھی 'صدقہ' ہے۔ یہ آپ کے شریکِ حیات کو یہ پیغام دیتا ہے کہ: "تم میرے لیے اہم ہو۔ میں تمہیں اہمیت دیتا ہوں (یا دیتی ہوں)۔"

​کبھی کبھی سب سے مؤثر گفتگو وہ خاموشی ہوتی ہے جسے دانشمندی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ وہ خاموشی جو دوسرے کو جگہ (Space) دے، نہ کہ اسے سزا دینے کے لیے ہو۔ جب غصہ بھڑکے، تو وہاں سے ہٹ جائیں، وضو کریں، دو رکعت نماز پڑھیں اور پرسکون ہونے کے بعد واپس آئیں۔ یہ کمزوری نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہ طاقت ہے جس کی رہنمائی 'حکمت' کر رہی ہوتی ہے۔

حاصلِ کلام: ایک محبت بھرا رشتہ فصاحت و بلاغت (بڑی بڑی باتوں) سے نہیں بلکہ نرمی سے بنتا ہے۔ آپ کا ہر لفظ یا تو آپ کے گھر کو تعمیر کر سکتا ہے یا آپ کے شریکِ حیات کو زخمی کر سکتا ہے۔ ہمیشہ ان الفاظ کا انتخاب کریں جو شفا کا باعث بنیں۔

حدیث

​"...جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ بھلی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔" 

(صحیح بخاری، حدیث: 6018)

عملی سرگرمی

عملی قدم: ایک دن کے لیے، اپنے لہجے میں خاص طور پر نرمی پیدا کریں۔ جب کبھی تنقید کرنے کا خیال آئے، تو رک جائیں اور اپنے الفاظ کو احترام کے سانچے میں ڈھال کر کہیں۔ اگر خاموشی اختیار کرنا زیادہ بہتر اور نرمی والا عمل ہو، تو خاموشی کو چنیں۔ دن کا اختتام اپنے شریکِ حیات کو ان کی شخصیت کی کوئی ایک ایسی خوبی بتا کر کریں جس کی آپ قدر کرتے ہیں۔

یہ کیوں فائدہ مند ہے:

  • ​یہ جذباتی تحفظ اور باہمی احترام کو پروان چڑھاتا ہے۔

  • ​یہ جلد بازی میں کہی گئی باتوں کی جگہ سوچ سمجھ کر گفتگو کرنے کی عادت ڈالتا ہے۔

  • ​یہ مہربانی اور ایک دوسرے کی قدر کرنے سے محبت اور لگاؤ کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔

دعا

‏ كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول‏: ‏ ‏ "‏اللهم أصلح لي ديني الذي هو عصمة أمري، وأصلح لي دنياي التي فيها معاشي، وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي، واجعل الحياة زيادة لي في كل خير، واجعل الموت راحة لي من كل شر‏"‏ ‏(‏‏(‏رواه مسلم‏)‏‏)‏‏.‏ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا مانگا کرتے تھے:

​"اے اللہ! میرے لیے میرا دین درست کر دے جو میرے ہر معاملے کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست کر دے جس میں میری معیشت (اور زندگی) ہے، اور میرے لیے میری آخرت درست کر دے جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے، اور میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا دے، اور میری موت کو ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا دے۔"

​(صحیح مسلم، حدیث: 2720)

تدبر کا سوال

​"آپ کے روزمرہ کے الفاظ آپ کی ازدواجی زندگی میں کس طرح کے 'بیج' بو رہے ہیں—شفا کے یا زخم کے؟ اگر آپ کا بولا ہوا ہر لفظ 'عبادت' بن جائے، تو آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟"


Add Reflection

Stay Connected to the Quran ❤️

Short meaningful reminders to reset, reflect and stay connected to the Quran.

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links
Duas from the Quran
Quran Verse of the Day
Ayatul Kursi
Yaseen
Al Mulk
Ar-Rahman
Al Waqi'ah
Al Kahf
Al Muzzammil
SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved
Contribute