Back to Learning Plan
مایوس نہ ہوں: گناہ کے بوجھ سے رحمت کے دروازوں تک کا سفر
Day 3: مغفرت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
اسلام کی سب سے تسلی بخش حقیقتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ بہت زیادہ معاف کرنے والا (الغفار) ہے، حتیٰ کہ جب ہم بار بار مانگتے مانگتے تھک جائیں۔ اس کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ نہ صرف گہری عبادت کے لمحات میں، بلکہ ٹوٹ پھوٹ، شرمندگی اور الجھن کے لمحوں میں بھی۔ توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی معیاد ختم ہونے کی تاریخ نہیں۔ مومن کے لیے توبہ کا موقع اس کی آخری سانس تک کھلا رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ بے شک اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی توبہ قبول فرماتا رہتا ہے جب تک نزع کا عالم طاری نہ ہو ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ 4253)
سورۃ المائدہ (5:74) کی آیت محض ایک سوال نہیں ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے واپس پلٹ آنے کی دعوت ہے۔ گویا یہ آیت کہہ رہی ہے: "تم معافی کیوں نہیں مانگتے جب میری رحمت تمہارا انتظار کر رہی ہے؟" یہ اس رب کی یقین دہانی ہے جو سزا دینا نہیں بلکہ معاف کرنا چاہتا ہے۔
اور سورۃ غافر (40:60) میں اللہ ایک وعدہ کرتا ہے۔ کوئی تجویز نہیں، کوئی مبہم امید نہیں، بلکہ ایک واضح الٰہی وعدہ: "مجھ سے دعا کرو، میں جواب دوں گا۔" ذرا تصور کریں کہ ساری کائنات کا بادشاہ خود آپ کو یقین دلا رہا ہے کہ آپ کی دعا نظر انداز نہیں کی جائے گی۔ اگر وہ چاہے تو ہم سے گناہ کے فوراً بعد ہی حساب لے سکتا ہے، مگر وہ سزا میں تاخیر کرتا ہے تاکہ ہم اس کی معافی کی طرف دوڑیں۔ "اور آپ کا رب بہت بخشنے والا بہت رحمت والا ہے اگر وہ مواخذه کرتا ان کا بسبب ان کے اعمال کے تو بہت جلدی بھیج دیتا۔" (قرآن 18:58)
پھر بھی ہم کتنی بار ہچکچاتے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید ہم بہت آگے نکل گئے ہیں؟ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے، کہ اللہ ناراض ہے، کہ تم بہت زیادہ بار مانگ چکے ہو۔ مگر یہ سب جھوٹ ہیں۔ حقیقت یہ ہے: اگر تم زندہ ہو، اگر تمہارا دل دھڑک رہا ہے، تو معافی مانگنے کی دعوت اب بھی قائم ہے۔ یاد رکھو، شیطان تمہیں فقر کا وعدہ دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے معافی اور برکتوں کا وعدہ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ فرماتا ہے: "شیطان تمہیں فقر کا اندیشہ دلاتا ہے اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور اللہ وعدہ کر رہا ہے تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا اللہ بہت وسعت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔" (قرآن 2:268)
نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے (صحیح مسلم، 2759)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واپس پلٹنے کا کوئی غلط وقت نہیں۔ چاہے تم نے فجر کے وقت گناہ کیا ہو یا آدھی رات کو، اللہ کی رحمت پہلے ہی تمہاری طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔
تم نے جو بھی کیا ہو، اور جتنی بار بھی ناکام ہوئے ہو، اللہ کی معافی کا دروازہ کھلا ہی رہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ تم اس کے مستحق ہو، بلکہ اس لیے کہ وہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔
حاصلِ کلام:اللہ کے ہاں"بہت دیر ہو چکی ہے"جیسی کوئی بات نہیں۔ جب تک سانس باقی ہے، معافی کا دروازہ کھلا ہے، اور وہ اب بھی تمہیں بلا رہا ہے۔
حدیث
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔‘‘
ماخذ: صحیح مسلم 2759a
عملی سرگرمی
آج کوئی پرسکون لمحہ تلاش کریں اور دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائیں۔ اللہ سے وہ باتیں کہیں جنہیں کہنے سے آپ ڈرتے رہے ہیں۔ دل کھول کر سب بیان کریں۔ اس سے صرف معافی ہی نہیں بلکہ سکون اور قرب بھی مانگیں۔ اپنی دعا اس یقین اور اعتماد کے ساتھ ختم کریں کہ اس نے آپ کی بات سن لی ہے۔ “کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ وہ بہت ہی توبہ قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے” (قرآن 9:104)۔
صرف زبان سے توبہ کے الفاظ ادا کر لینا کافی نہیں۔ سچی توبہ اخلاص پر مبنی ہوتی ہے اور اس کی چند شرائط ہیں
گناہ کو چھوڑ دینا
گناہ پر ندامت محسوس کرنا
دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ کرنا
جس کا حق مارا ہو اس سے معافی مانگنا یا اس کا حق ادا کرنا
دعا
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت عطا فرما، میری حفاظت فرما اور مجھے رزق عطا فرما۔
حوالہ: حصن المسلم
تدبر کا سوال
کون سی چیز آپ کو اللہ سے معافی مانگنے سے روکتی ہے، اور آج کی یہ یاد دہانی آپ کو اس رکاوٹ سے آگے بڑھنے میں کیسے مدد دیتی ہے؟ اگر ہر بار اللہ کی کسی نعمت کو استعمال کرتے ہوئے گناہ کرنے پر وہ نعمت آپ سے چھن جاتی، تو کیا آپ آج زندہ ہوتے؟ یہ بات آپ کو اللہ کی بے پایاں رحمت کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟