Back to Learning Plan
قرآن میں فرشتوں کی دعائیں
Day 4: زندگی کے سب سے نازک موڑ پر فرشتوں کی دعا
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ خود کو سب سے زیادہ بے بس محسوس کرتا ہے: یعنی زندگی کا اختتام۔ اس لمحے میں، جب روح کوچ کرنے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے اور جب خوف اور بے یقینی دل کو جکڑ سکتی ہے، اللہ مومن کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ فرشتوں کو بھیجتا ہے۔
سورہ فُصّلت (32–30) ہمیں اس لمحے کی ایک نایاب اور پُر اثر جھلک دکھاتی ہے۔ فرشتے بڑی نرمی سے ایک ایسا پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں جو ہر خوف اور دکھ کو مٹا دیتا ہے:
"آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔"
یہ محض الفاظ نہیں ہیں۔ یہ گلے لگانے والے الفاظ ہیں، ایک آسمانی دعا جو تسلی میں لپٹی ہوئی ہے۔ فرشتے مومن کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ اس راستے پر کبھی تنہا نہیں چلا۔ وہ کہتے ہیں، "ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی ہیں۔" وہ ہمیشہ وہاں موجود تھے، دیکھ رہے تھے، رہنمائی کر رہے تھے اور حفاظت کر رہے تھے۔ اور اب، وہ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، نرمی اور اطمینان کے ساتھ روح کے آخری سفر میں اس کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ یہ لمحہ ہمیں اپنے مومن بندوں کے لیے اللہ کی بے پناہ عنایت دکھاتا ہے۔ جب پیارے بھی ہمیں تسلی دینے کے قابل نہیں رہتے، تب فرشتے ملامت کے ساتھ نہیں، بلکہ سکون، راحت اور ابدی اجر کے وعدے کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔
اور اس قربت کا سبب کیا بنا؟ مومن کی پہچان اور اس کی مستقل مزاجی: "ہمارا رب اللہ ہے،" اور پھر وہ اس پر ڈٹ گئے۔ بس یہی۔ اللہ کمال (پرفیکشن) کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ صرف سچائی اور استقامت چاہتا ہے۔
یہ پیغام ہمیشہ کے لیے ہے: آپ کبھی بھی واقعی تنہا نہیں ہوتے۔ چاہے دکھ ہو، جدوجہد ہو، یا آپ کا آخری سانس، اللہ نے آپ کے ساتھ رہنے کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو آپ کو تسلی دیتے ہیں، آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ آپ کو دیکھا جا رہا ہے، آپ سے محبت کی جاتی ہے، اور آپ کا مقدر کسی بہت عظیم چیز (جنت) کے لیے ہے۔
حدیث
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں سفر کرتے ہیں اور مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔"
(سنن النسائی: 1282)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ فرشتے کوئی دور رہنے والی مخلوق نہیں ہیں؛ بلکہ وہ مسلسل اللہ کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں — وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ہمارے درود و سلام پہنچاتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔
عملی سرگرمی
جب آپ بے چین، تنہا یا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں، تو فرشتوں کے ان الفاظ پر غور کریں اور خاموشی سے دہرائیں:
"نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔"
یقین دہانی کے ان الہی الفاظ کو اپنے لیے سکون کا ذریعہ بننے دیں۔
سارا دن یہ کلمات پڑھتے رہیں:
"سبحان اللہ وبحمدہ، استغفر اللہ"
(پاک ہے اللہ اپنی تعریفوں کے ساتھ، میں اس سے معافی مانگتا ہوں)۔
اپنی آواز کو فرشتوں کی اس غیبی پکار کے ساتھ شامل ہونے دیں جو اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔
دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
اے اللہ! میں تجھ سے (دین کے) معاملے میں ثابت قدمی اور ہدایت پر پختہ ارادے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے تیری نعمتوں پر شکر گزاری اور تیری بہترین عبادت (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے قلبِ سلیم (پاکیزہ دل) اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے ان تمام بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں ان تمام برائیوں سے جنہیں تو جانتا ہے۔ اور میں تجھ سے ان (گناہوں) کی معافی مانگتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے۔ بے شک تو ہی غیب کا جاننے والا ہے۔
(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 335-336)
تدبر کا سوال
اگر میں واقعی یہ یقین کر لوں کہ فرشتے میرے آخری لمحات میں مجھے تسلی دینے کے لیے نازل ہوں گے، تو میں آج اپنی زندگی کیسے گزاروں گا؟ کیا میں اپنے خوف کو مختلف انداز میں نہیں جھیلوں گا، یہ جانتے ہوئے کہ میں کبھی اکیلا نہیں ہوں گا؟ اور مجھے وہ کیا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میں یقینی بنا سکوں کہ میرے آخری لمحات میں مجھے اس معزز رفاقت (فرشتوں) سے نوازا جائے؟