Back to Learning Plan
قرآن میں فرشتوں کی دعائیں
Day 2: مومنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے فرشتوں کی دعا
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
اپنی رحمت سے اللہ نے جنت کو کامل رفاقت اور خوشی کی جگہ بنایا ہے، نہ کہ تنہائی کی، کیونکہ انسانوں کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ نیک صحبت میں سکون پاتے ہیں۔ خود فرشتے مومنوں کے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاندانوں، نیک والدین، شریکِ حیات اور بچوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمارا ایمان، بالکل ہمارے وجود کی طرح، تنہائی میں نہیں جیا جاتا؛ ہماری دعائیں، ہمارے اعمال اور ہمارا صبر نسلوں تک اثر انداز ہوتا ہے۔
سورۃ الغافر (40:8) میں فرشتوں کی دعا ہمیں وراثت اور نسل کی قدر بتاتی ہے: ہمارا ایمان نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارے پیاروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ان کی نیکی ہمیں فائدہ دیتی ہے۔ جنت میں، اہل ایمان کو دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا، انہیں پاک کیا جائے گا اور مل کر بلند درجات عطا کیے جائیں گے۔ اگرچہ مومن خاندان کے افراد مختلف درجات پر ہوں گے، اللہ اپنے فضل سے بعض کے درجات بلند کر دے گا تاکہ خاندان متحد ہو سکیں، جیسا کہ درج ذیل آیت میں ملتا ہے: "اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔ ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔"(سورۃ الطور، آیت نمبر 21)
سورۃ الشوریٰ (42:5) اس وسعت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ فرشتے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے، خاص طور پر اہل ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، جو ہمیں حضرت آدم علیہ السلام سے ہماری مشترکہ نسبت اور ان رشتوں کی یاد دلاتے ہیں جو ہم سب کو جوڑتے ہیں۔ یہ کہ ہم سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ ہر وقت، فرشتے ان ہستیوں میں شامل ہوتے ہیں جو زمین پر موجود لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن میں بتاتا ہے۔
اور قرآن (13:24) میں، فرشتے جنت میں مومنین کے پاس داخل ہوں گے، انہیں سلام پیش کریں گے اور مبارکباد دیں گے۔ ذرا اس لمحے کا تصور کریں: اپنے پیاروں کے ساتھ ابدی خوشیوں میں قدم رکھنا اور ان فرشتوں سے ملنا جو کہیں گے، "تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے میں"۔ ان کے یہ الفاظ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ایمان کے سفر میں آپ نے ایک دوسرے کو یاد دلاتے ہوئے اور ایک دوسرے کی ہمت بندھاتے ہوئے جو مشکلیں مل کر جھیلی تھیں، وہ سب رنگ لے آئی ہیں، اور یہ کہ جنت صرف آپ کی نہیں ہے؛ بلکہ یہ ان سب کے ساتھ ہے جن سے آپ محبت کرتے ہیں۔
حاصلِ کلام (Takeaway): آپ جنت کی طرف اکیلے نہیں بڑھ رہے۔ فرشتے آپ کے لیے، آپ کے خاندان کے لیے اور آپ کی پوری امت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں، اور وہ جنت کے دروازوں پر سلامتی کے ساتھ ایمان والوں کا استقبال کریں گے۔
حدیث
ابو ذر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
"جب اللہ کا کوئی بندہ اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے دعا کرتا ہے، تو فرشتے کہتے ہیں: 'آمین، اور تمہارے لیے بھی ویسا ہی ہو'۔"
(صحیح مسلم: 2732)
یہ حدیث فرشتوں کی اس صفت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کرتے ہیں، جن میں ہمارے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔
عملی سرگرمی
آج ایک لمحہ نکال کر اپنے خاندان کے لیے دعا کریں، جس میں آپ کے والدین، بہن بھائی، بچے اور یہاں تک کہ مستقبل کی نسلیں بھی شامل ہوں۔ کہیے:
رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ
"اے میرے پروردگار ! مجھے بنا دے نماز قائم کرنے والا اور میری اولاد میں سے بھی اے ہمارے پروردگار ! میری اس دعا کو قبول فرما۔"(سورۃ ابراہیم، آیت: 40)
یہ کس طرح مددگار ثابت ہوتا ہے:
آپ سورہ غافر (40:8) میں فرشتوں کی جانب سے کی گئی دعا کی پیروی کرتے ہیں۔
آپ کے خاندانی رشتوں میں محبت، رحمت اور برکت کا اضافہ ہوتا ہے۔
آپ دعا کا ایک ایسا ورثہ تیار کرتے ہیں جو نسل در نسل فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔
دعا (قرآن سے)
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
پروردگار ! اور انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا ُ تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو ُ یقینا زبردست ہے کمالِ حکمت والا ہے۔ ( سورہ غافر، آیت: 8)
تدبر کا سوال
اگر میں باقاعدگی سے اپنے خاندان کی بخشش اور جنت میں دوبارہ اکٹھے ہونے کی دعا کروں، بالکل ویسے ہی جیسے فرشتے کرتے ہیں، تو میرے رشتوں میں کیسی تبدیلی آئے گی؟