Back to Learning Plan
قرآن میں فرشتوں کی دعائیں
Day 3: ہماری حفاظت کرنے والے نگہبان فرشتے
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
ہر انسان فرشتوں کی مستقل نگرانی میں رہتا ہے جو اس کے ہر عمل کو درج کرتے اور اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ مومن کے لیے، اس نگرانی میں موت کے وقت تک اللہ کے حکم سے حاصل ہونے والی حفاظت بھی شامل ہے۔ قرآنِ کریم انہیں ایسے محافظوں کے طور پر بیان کرتا ہے جو باری باری آتے ہیں اور موت کے لمحے تک اللہ کے حکم سے ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ دنیاوی محافظوں کے برعکس جو ناکام ہو سکتے ہیں، فرشتے اپنے کام میں کبھی غفلت نہیں برتتے، کیونکہ وہ مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
یہ غیبی حفاظت ایک ایسی رحمت ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ آپ کتنی بار نقصان سے بچے، کسی حادثے سے محفوظ رہے، یا کسی کمزوری کے لمحے میں سلامتی پائی۔ یہ لمحات محض اتفاق نہیں ہیں؛ بلکہ یہ ان غیبی حفاظتوں میں سے ہو سکتے ہیں جو اللہ اپنے فرشتوں کے ذریعے عطا فرماتا ہے، جو اپنی خدائی ذمہ داری پوری کر رہے ہوتے ہیں۔
سورہ الرعد (13:11) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ فرشتے ہم میں سے ہر ایک کے آگے اور پیچھے تعینات ہیں۔ یہ کوئی خود مختار محافظ نہیں ہیں بلکہ صرف "اللہ کے حکم سے" کام کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل سلامتی تالوں، الارم یا فوجوں میں نہیں، بلکہ اللہ کی مشیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عنایت کی نشانیاں ہیں، جو غیبی طریقوں سے اس کے بندوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔
اسی کے ساتھ، یہ حقیقت ایک روحانی وزن بھی رکھتی ہے۔ یہ محافظ اعمال درج کرتے ہیں، فیصلوں کے گواہ بنتے ہیں، اور ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ یہ جاننا کہ فرشتے ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، ہمیں سکون بھی دینا چاہیے اور احساسِ ذمہ داری بھی۔ سکون اس لیے کہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا گیا، اور احساسِ ذمہ داری اس لیے کہ آپ کے الفاظ اور اعمال ہمیشہ معزز لکھنے والوں اور محافظوں کی موجودگی میں ہوتے ہیں۔
حاصلِ کلام: زندگی تنہا نہیں گزاری جاتی۔ آپ کے ہر قدم کے ساتھ فرشتے آپ کے گرد موجود ہیں، جو اعمال لکھ رہے ہیں، حفاظت کر رہے ہیں اور آپ کو یاد دلا رہے ہیں کہ اللہ کی نگہبانی آپ کے تصور سے بھی زیادہ آپ کے قریب ہے۔
حدیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصر کی نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ، پھر جنھوں نے تمھارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں ، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے : تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ جواب دیتے ہیں : ہم انھیں ( اس حالت میں ) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس ( کل عصر کے وقت ) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘
(صحیح البخاری: 7429؛ صحیح مسلم: 632)
عملی سرگرمی
آج اپنے محافظ فرشتوں کا احساس کرتے ہوئے فجر اور عصر کی نماز عاجزی و انکساری کے ساتھ ادا کریں، یہ جانتے ہوئے کہ یہی وہ لمحات ہیں جب وہ اللہ کے حضور اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
سونے سے پہلے آیت الکرسی (سورۃ البقرہ: 255) کی تلاوت کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ جب یہ آیت پڑھی جاتی ہے، تو پوری رات مومن کی حفاظت کے لیے ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری: 3275)
دعا
اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي
اے اللہ! میری پردہ پوشی فرما اور میرے خوف کو امن و سکون میں بدل دے۔
(حصن المسلم، رقم: 84)
تدبر کا سوال
اگر فرشتے ہر لمحہ میرے گرد موجود ہیں، تو اس سے تنہائی یا عوامی مقامات پر میرے طرزِ عمل میں کیا تبدیلی آنی چاہیے؟