Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 3: دل کا فلٹر
کیا چیز مجھے قرآن سے جڑنے سے روک رہی ہے؟
ایک بہت بڑی چیز جو لوگوں کو مستقل بنیادوں پر قرآن پر غور و فکر کرنے سے روکتی ہے وہ خوف ہے کہ ہم کچھ غلط کر دیں گے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بہت مثبت خوف ہے جو اللہ کے الفاظ کی عزت و تعظیم میں پیدا ہوتا ہے۔
ہم اس تعظیم اور مثبت احترام کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے قائم رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہم اس خوف پر بھی قابو پانا چاہتے ہیں جو ہمیں قرآن کے ساتھ ایک بامعنی تعلق استوار کرنے سے روک رہا ہے۔
"ہم اس تعظیم اور مثبت احترام کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے قائم رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہم اس خوف پر بھی قابو پانا چاہتے ہیں جو ہمیں قرآن کے ساتھ ایک بامعنی تعلق استوار کرنے سے روک رہا ہے۔" ڈاکٹر صہیب سعید
کیا مجھے قرآن پر غور و فکر کرنے کے لیے ایک قابل لکھاری ہونے کی ضرورت ہے ؟
یاد رکھیں کہ کوئی آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ایک دلکش پوسٹ لکھیں جس میں آپ نے آیات کی وضاحت کی ہو یا دماغ ہلا دینے والے نظریات کے ساتھ آئیں۔ غور و فکر ان چیزوں کی طرف لے جا سکتا ہے، لیکن اہم نکتہ بہت سادہ سا ہے: قرآن کو اپنے دل پر اترنے دیں اور اس کے اثرات آپ کی زندگی پر ہوں۔
یاد رکھیں کہ یہ کتاب ہم تک پہنچنے سے پہلے حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوئی تھی:
تو أئیے شروع سے ہی اس چیز کو یقینی بنائیں کہ ہم اس حقیقت کے بارے میں بلکل واضح ہیں کہ تدبر صرف فکری مشق نہیں ہے
“دل کا فلٹر کیا ہے؟”
ان پانچ تجزیاتی زاویوں کی طرف جانے سے پہلے ہمیں اس فلٹر کے بارے میں جاننا ہوگا جہاں سے ہر چیز گزرتی ہے۔ وہ فلٹر *دل* ہے۔ جس طرح ایک رنگین تہہ حقیقی زندگی میں کیمرے کے لینز یا میگنیفائنگ گلاس کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دل کا فلٹر بھی یقینی طور پر آپ کے نقطہ نظر کو اللہ کے الفاظ پر رنگ دے گا۔
"جس طرح ایک رنگین تہہ حقیقی زندگی میں کیمرے کے لینز یا میگنیفائنگ گلاس کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دل کا فلٹر بھی یقینی طور پر آپ کے نقطہ نظر کو اللہ کے الفاظ پر رنگ دے گا۔" ڈاکٹر صہیب سعید
بہرحال، ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن کو سنتے ہیں یا بلکہ پڑھتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے روزی کما سکیں، لیکن نہ تو وہ کوئی روحانی تازگی حاصل کرتے ہیں، نہ ہدایت اور نہ اصلاح۔ یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں اس آیت میں کہا گیا ہے جو( بغیر کسی اخلاص کے) پوچھتے ہیں
("اللہ کا اس سے کیا مطلب ہے؟" (القرآن 2:26
یہاں اس آیت پر ایک یادگار عکاسی ہے، جو ایک نئے اور خوفناک تجربے سے پیدا ہوئی ہے جس سے ہم میں سے اکثر لوگ گزرے ہیں
https://quranreflect.com/posts/31838
ایک مومن کے لیے دل کے فلٹر کا کیا مطلب ہے؟”
مومنوں کے لیے، اس کا مطلب ہے اپنے دل کو ہدایت کی روشنی حاصل کرنے اور غور و فکر کرنے کے لیے صاف کرنا۔ ہم عاجزی اور توجہ کے ساتھ اللہ کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اور، اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس دل کو چمکاتے رہنا چاہیے (بشمول تلاوت اور غور و فکر کے ذریعے) تاکہ یہ ہمیں قرآن کو ویسا ہی دکھاتا رہے جیسا کہ یہ ہے اور جیسا کہ اسے دیکھا جانا چاہیے۔