Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 14: روابط کا عدسہ (حصہ 2)
پچھلی بار، ہم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ جب بھی ہم کسی آیت پر غورو فکر کر رہے ہوں، تو اسے اس سے پہلے اور بعد کی آیات سے جوڑیں اور اسے پوری سورت کے سیاق و سباق میں پڑھیں۔ اب ہم پورے قرآن کے وسیع تر تناظر پر غور کریں گے۔
"مجھے قرآن کی طرف کیسے رجوع کرنا چاہیے؟"
یہ بات عام فہم ہے کہ ہمیں قرآن کو ایک مکمل کلام کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی آیات آپس میں جڑی ہوئ ہیں۔ قرآن میں ایسے اشارے موجود ہیں جو ہمیں اس کے حصوں کو آپس میں جوڑنے کی تلقین کرتے ہیں، جیسے کہ کوئی سوال ایک سورت میں پایا جائے اور اس کا جواب کسی دوسری سورت میں ہو۔ لہٰذا اگرچہ کسی ایک آیت پر توجہ دینا مفید ہے، مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کو مجموعی طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔
"اگرچہ کسی ایک آیت پر توجہ دینا مفید ہے، مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کو مجموعی طور پر بھی دیکھنا چاہیے" ڈاکٹر صہیب سعید
"اگر ہم اسے مجموعی نگاہ سے نہ دیکھیں تو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟"
درحقیقت، غور و فکر (تدبر) میں یہ ایک عام غلطی ہے جو کہ کچھ مشہور مبلغین سے بھی ہو جاتی ہے کہ وہ کسی آیت سے حتمی طور پہ کچھ ایسا نتیجہ نکال لیتے ہیں جو کہ نتیجتاً کسی دوسری آیت سے متضاد ہوتا ہے اور انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا(حالانکہ آیات آپس میں متضاد نہیں ہوتیں)۔
"قرآن میں ’ضابطوں‘ یا ’اسلوب‘ پر غور و فکر کرنے سے مجھے تدبر میں کیا مدد مل سکتی ہے؟"
مثبت پہلو یہ ہے کہ قرآن کے "ضابطوں" یا "اسلوب"(عادات) سے واقفیت ہونا بہت فائدہ مند ہے۔ جب آپ کسی چیز کو بار بار دیکھتے ہیں تو آپ اس کو ایسے ہی دیکھنے کی توقع کرنے لگتے ہیں، اور یہ چیز آپ کو سیاق و سباق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ کسی آیت میں انعام کا ذکر ہے اور اس کے بعد سزا کی تنبیہ ہے، تو یہ بات آپ کیلیے حیران کن نہیں ہوگی کیونکہ یہ قرآن مین بہت عام سی بات ہے۔ لیکن جو چیز آپ کی توجہ کھینچے گی اور آپ کے غور و فکر کو تحریک دے گی، وہ یہ ہوگی کہ جب آپ کو کچھ ایسا دیکھنے کو ملے جو عام ضابطے کے خلاف لگے۔ یہ خاص طور پر اسی مقام پر کیوں ہے؟ کیا یہ بات سورت اور سیاق و سباق پہ غوروفکر میں مدد دیتی ہے؟