Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 18: عمومی اسباق کا عدسہ (حصہ 3) اور اخذ کیے گئے نتائج
جیسے کہ ہم ان پانچ زاویوں کے مختصر تعارف کو مکمل کر رہے ہیں، تو آئیے عمومی اسباق کے عدسے سے متعلق اہم سوالات کا جائزہ لیتے ہیں:
میں اس آیت کے بنیادی معنی کو ایک عمومی اصول، سبق یا زندگی کی حقیقت کے طور پر کیسے بیان کر سکتا ہوں؟
یہ عمومی نکتہ کن دیگر حالات میں لاگو ہوتا ہے، اور کون کون سے ملتے جلتے حالات مجھے اس آیت کی حکمت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں؟
اس آیت میں تبدیلی سے متعلق کونسے نکات پاۓ جاتے ہیں؟ اور یہ کس طرح سے میرے اندر کسی روحانی ردعمل( جیسے کہ مجھے اللہ سے کچھ مانگنے کیلیے انسپائر کرنا) کو جنم دیتی ہے، ؟
قرآن پر غور و فکر کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
قرآن پر غور و فکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ہر آیت کی اہمیت اور مطابقت کو وسیع پیمانے پر دیکھ سکیں اور اسے اپنی زندگی/حالات پر لاگو کرسکیں۔ یہ غور و فکر کی بنیادی صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔
"قرآن پر غور و فکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ہر آیت کی اہمیت اور مطابقت کو وسیع پیمانے پر دیکھ سکیں اور اسے اپنی زندگی/حالات پر لاگو کرسکیں۔" — ڈاکٹر صہیب سعید
قرآن پر غور و فکر علماء کی طرح اس میں سے احکامات نکالنے کے عمل سے ملتا جلتا ہے ، جس کے لیے زیادہ گہرائی اور علم کی ضرورت ہوتی ہے(استنباط)۔ اس کے برعکس، "استدلال" کا عمل ہوتا ہے جس میں آیت کو نتیجہ اخذ کرنے کے لیے بطور ثبوت استعمال کیا جاتا ہے۔
"کیا آپ کوئی مثال دے سکتے ہیں؟"
ایک زبردست مثال حال ہی میں ایک مقرر سے سننے کو ملی، جس میں انہوں نے کہا کہ ہمیں امت میں بگاڑ پر غصہ کرنے سے آگے بڑھنا ہے اور حل تلاش کرنے کے لیے وحی سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "آخرکار، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی غصہ آیا، لیکن پھر انہوں نے تختیاں اٹھا لیں۔"
"ہمیں امت میں بگاڑ پر صرف غصہ کرنے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور وحی کو تھام کر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے!" — ڈاکٹر صہیب سعید
یہ ایک حیرت انگیز نقطہ تھا! اس مثال سے ہمیں غور و فکر کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے: پہلے تو انسان کو آیت پر غور کرنا چاہیے اور بہترین طور پر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر وہ اس سے اخذ کیے گئے سبق کو ایک عمومی نکتہ اور سبق کے طور پر پیش کرسکتا ہے اور آخرکار اسے ایک عمدہ انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
"اگر میں کچھ غلط کر دوں تو؟"
یقیناً، ان زاویوں میں سے کسی کو استعمال کرنے کی کوشش میں ہم غلطیاں بھی کر سکتے ہیں۔ اور ہمیشہ کی طرح، میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس سے پہلے کہ آپ کو قرآن کے بارے میں متاثر کن بصیرتیں بانٹنے کی ضرورت محسوس ہو ، اہم یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنے لیے اس میں فائدہ تلاش کریں۔ قرآن ریفلیکٹ میں ہم لوگوں کو قرآن کے بارے میں بہترین انداز میں بات کرنےکی ترغیب دے رہے ہیں، اور ساتھ ہی ہم ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں جہاں ہم اپنےعلماء اور ریویو ٹیم کے زیرِ سایہ اپنے خیالات لوگوں کے ساتھ بانٹ سکیں۔ قرآن ریفلیکٹ کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کریں:۔
میں دعا کرتا ہوں کہ ان پانچ زاویوں کے ذریعے
قرآن پر غور و فکر کے اس وسیع اور پیچیدہ موضوع کو سمجھانے کی یہ کوشش آپ کے لیے مددگار ثابت ہو، اور میں مستقبل میں ان خیالات اور ان کی پیشکش کو بہتر بنانے کے لیے آپ کی تمام آراء کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو برکت دے۔!