Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 16: عمومی اسباق کا عدسہ
کبھی کبھار کسی آیت میں کوئ عمومی سبق بیان کیا جاتا ہے جسے ہم اپنے مخصوص حالات اور مخصوص معاملات پر لاگو کر سکتے ہیں۔ اور کبھی کبھار آیت پہلے سے ہی ایک خاص سیاق و سباق میں ہوتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں مزید غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسے وسیع پیمانے پر سمجھ سکیں اور اپنی زندگی کے مختلف حالات پر لاگو کر سکیں۔
یہی سوچ کا طریقہ تدبر/تفکر کے عمل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے: آیت کا مفہوم بیان کرنا یا اس سے کوئی بصیرت انگیز سبق اخذ کرنا۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے، جبکہ ماہرین کی سطح کے کام ہم علماء کے سپرد کرتے ہیں: ان کا کام "اِستِنباط" ہے - یعنی آیت کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے شرعی احکام اخذ کرنا۔
"لیکن میں عالم نہیں ہوں۔ میں عمومی اسباق کیسے حاصل کر سکتا/سکتی ہوں؟"
ہمارے لیے اصل بات یہ ہے کہ آیات کا پیغام سمجھیں۔ اس کی واضح مثال قرآن کے قصّوں میں ملتی ہے۔ ظاہر ہے، ان کا مقصد محض ہمیں کرداروں اور واقعات سے محظوظ کرنا نہیں ہے۔ یہ کہانیاں ان مختلف طریقوں میں سےایک ہیں جن کے ذریعے اللہ ﷻ ہمیں تعلیم دیتے ہیں: لہٰذا ہمیں انہیں ایسے طالبِ علم کی ذہنیت کے ساتھ پڑھنا چاہیے ، جو سبق حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ایک ہی آیت میں کئی اسباق ہو سکتے ہیں، کچھ زیادہ لطیف اور پوشیدہ۔
"یہ کہانیاں ان مختلف طریقوں میں سے ایک ہیں جن کے ذریعے اللہ ﷻ ہمیں تعلیم دیتے ہیں: لہٰذا ہمیں انہیں اس ایسے طالبِ علم کی ذہنیت کے ساتھ پڑھنا چاہیے، جو سبق حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔" ڈاکٹر صہیب سعید
ہمیشہ کی طرح، یہ عدسہ دیگر زاویوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دوں گا جو "میرے ذاتی تجربات کے عدسے" پر بھی مبنی ہے۔ جب آپ کسی مخصوص صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں، تو شاید آپ ایک آیت میں ایسا عمومی نکتہ دیکھیں، جو پہلے آپ کی نظروں سے اوجھل رہا ہو۔
کچھ سال پہلے، رمضان کے آخری دس دنوں میں، مجھے قرآن فاؤنڈیشن کے ساتھیوں کے ساتھ عمرہ کرنے کی سعادت ملی۔ جب ہم پہلی بار مکہ میں حرم شریف میں تراویح کی نماز میں شامل ہوئے، امام سورہ قصص کے اس حصے سے تلاوت کر رہے تھے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک بچے کی حیثیت سے دریا میں ڈال دیا گیا تھا، اور آخرکار وہ فرعون کے دربار میں پہنچ گئے۔ ان کی والدہ نے اللہ کے حکم پر بھروسہ کیا، پھر ان کے رب نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس بچے نے کسی بھی دودھ پلانے والی عورت کا دودھ پینے سے انکار کر دیا۔ اس نے انہیں فرعون کے دربار میں ان کی والدہ کے پاس پہنچا دیا اور اسے اپنے بیٹے کی پرورش کے لیے معاوضہ بھی دیا، اور یوں وہ بنی اسرائیل کے مرد بچوں پر آنے والے خطرے سے محفوظ رہے۔
سچ کہوں تو، میں اس ترجمے سے مطمئن نہیں ہوں۔ اس میں بنیادی خیال تو ہے، لیکن حقیقت میں اللہ ﷻ نے فرمایا کہ انہوں نے ان سب دائیوں (یا المراضع کو یہاں دودھ کے ذرائع کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے حرام کر دیا تھا۔ یہ ایک زوردار انداز ہے اس بات کا اظہار کرنے کے لیے کہ کیسے بچے کے دل میں کسی اور کی بجائے صرف اپنی ماں سے رغبت پیدا ہوئی۔ دیکھیں کیسے اللہ نے تمام غذائی ذرائع کو بند کر دیا، تاکہ وہ بہترین چیز کو پالے۔
"دیکھیں، کیسے اللہ نے تمام غذائی ذرائع کو بند کر دیا، تاکہ وہ بہترین چیز کو پالے۔" ڈاکٹر صہیب سعید
اب جب میں نے اس رات اس آیت کو سنا تو اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں مختلف تعلیمی نوکریوں کے لیے درخواستیں بھیج رہا تھا اور یونیورسٹی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ میں تفسیر کے میدان میں ڈیجیٹل منصوبوں کے ذریعے اپنی خدمات دے سکوں۔ مجھے یقیناً مایوسی ہوئی جب مجھے ایک کے بعد دوسری جگہ سے انکار سننے کو ملا۔ لیکن پھر اللہ ﷻ نے میرے لیے ایسی راہیں کھول دیں جن کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا! میں مکہ میں تھا، قرآن اور اس کے لوگوں کی خدمت کے لیے پرعزم ساتھیوں کے ساتھ، جو Quran.com اور QuranReflect چلاتے ہیں، اور وہ میری کاوشوں کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ان کو انٹرنیٹ پر سب سے معتبر اور جدید وسائل بنایا جا سکے!
سبحان اللہ، مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ مجھے بہت سارے انکار اس لیے سننے کو ملے تا کہ میں کسی بہتر، پاکیزہ اور مؤثر راستے کی طرف رہنمائی پاؤں۔ اور اب میں اس آیت میں ہر مومن کے لیے ایک عمومی سبق دیکھتا ہوں: کہ کبھی کبھار اللہ ﷻ دروازے اس لیےبند کرتے ہیں تاکہ آپ صحیح دروازے تک پہنچیں۔ اور جب بھی مجھے اس یاد دہانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو میں ہمیشہ اس آیت کو یاد کرتا ہوں۔