Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 12: میرے ذاتی تجربے کا عدسہ (حصہ 3)
میں دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات اور اپنےادا کیے گۓ مختلف کرداروں/ذمہ داریوں سے کیا سیکھ سکتا ہوں جو قرآن کی تعلیمات اور مثالوں کو سمجھنے میں میری مدد کر سکے؟
آئیے اس بات کو تسلیم کرنے سے آغاز کرتے ہیں کہ زندگی کو حقیقی معنوں میں جینا، مشاہدہ کرنا اور تجربہ حاصل کرنا اور پھر ان سب کو دنیا کو سمجھنے کیلیے استعمال میں لانا ضروری ہے۔ ہم نے اس سب کے بارے میں پہلے "قرآنی دنیاؤں کے عدسے" کے مطابق سوچا تھا، لیکن اس وقت ہم تاریخ اور فطرت کے بارے میں بات کر رہے تھے – اب ہم انسانی تجربات اور تعلقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
میں بعض اوقات الله کے نام "رب العالمین" کے بارے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ تخلیق کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اور دنیا کو بہت چھوٹا سمجھتے ہیں، تو پھر رب کے بارے میں آپ کی سمجھ بوجھ بھی کم ہوگی۔ دنیا کے بارے میں آپ کا علم جتنا وسیع ہوگا، اتنا ہی زیادہ اس دنیا کےخالق اور مالک کے بارے میں آپ کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاۓ گا۔
"دنیا کے بارے میں آپ کا علم جتنا وسیع ہوگا، اتنا ہی زیادہ اس دنیا کےخالق اور مالک کے بارے میں آپ کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاۓ گا"۔ ڈاکٹر صہیب سعید
" تدبّر کے سفر میں میری زندگی کے تجربات کس طرح مددگار ہو سکتے ہیں؟"
اسی طرح،زندگی اور اس کی پیچیدگیوں، لوگوں اور ان کےکردار کے بارے میں بھی ہمارا علم اور تصوّر بہت محدود ہو سکتا ہے۔ اور پھر ہم قرآن کی کہانیوں میں ہونے والے حقیقی واقعات کو سمجھنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ ہم چیزوں کو سطحی طور پر لے سکتے ہیں(یعنی مکمل طور پر سمجھنے سے محروم رہ سکتے ہیں)۔ مثلاً یہ سوچتے ہوئے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے ان پر طرفداری کا الزام لگایا، تو وہ درست ہوگا۔ سیاست کے کھیلوں سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے، ہم وزیر (عزیز مصر) کے بیانات اور عمل کو زیادہ سطحی طور پر لے سکتے ہیں، اور یہ سوچ سکتے ہیں کہ شہر کی عورتیں بس "گپ شپ" کر رہی تھیں۔
https://quranreflect.com/posts/31864?share=true
https://quranreflect.com/posts/31959?share=true
https://quranreflect.com/posts/32019
(یہ مثالیں کئی زاویوں سے بیان کی گئیں ہیں، جن میں الفاظ، دنیا اور تجربات کے عدسے شامل ہیں۔)
"اگر میری زندگی کے تجربات محدود ہوں تو کیا ہوگا؟"
تجربات کے محدود ہونے کا نقصان یہ ہے کہ ہم چیزوں کو غیر معقول انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم کافروں اور منافقوں کے بارے میں پڑھیں، لیکن ہمیں صرف اپنے خاندان والوں کا علم ہو، تو یہ ممکن ہے کہ ہم ان تفصیلات کو غلط لوگوں پر لاگو کر دیں۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ کسی ظالم کی حکومت میں رہنا کیسا ہوتا ہے، تو آپ کے سسرال والے بھی آپ کے ذہن میں "فرعون اور اس کے لشکر" بن سکتے ہیں!
"اگر آپ نہیں جانتے کہ کسی ظالم کی حکومت میں رہنا کیسا ہوتا ہے، تو آپ کے سسرال والے بھی آپ کے ذہن میں 'فرعون اور اس کے لشکر' بن سکتے ہیں!" ڈاکٹر صہیب سعید
"قرآن کی طرف بار بار لوٹنا کیوں ضروری ہے؟"
کبھی کبھی کوئ خاص تجربہ ہمیں قرآن کی طرف واپس آنے پر مجبور کر دیتا ہے اور کسی ایسی بات پر غور کرنے پر آمادہ کرتا ہے جسے ہم پہلے اس طرح سے نہیں دیکھتے تھے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم قرآن کو مسلسل پڑھتے رہیں، اسے جئیں اور مسلسل اللہ کے کلام کی طرف رجوع کرتے رہیں۔ آئیے! اپنے روزمرہ کے مطالعے کو اپنی روزمرہ کی زندگی کے ساتھ جوڑتے رہیں۔
"جب بہت سے علماء مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں تو میرے تجربات کی کیا اہمیت ہے؟"
اس عدسے کو استعمال میں لانے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے قرآن کے مطالعے کو کچھ ایسے تجربات کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں جو کہ شاید علماء تفسیر بھی نہ کر سکے ہوں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ علماء کی زندگیاں محدود اور تنہا ہوتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی فنی مہارت کو انسانی تجربے کی پوری رینج کے ساتھ نہیں جوڑ سکتا(یعنی ایک انسان زندگی میں ہر طرح کے تجربات نہیں کرتا): ایک بڑی ملازمت میں ہونا، محبت میں پڑنا، دل ٹوٹنا، سڑکوں پر سونا، والدین بننا، پیاروں کو کھونا،کسی معذور کا خیال رکھنا، اپنے ایمان کا چیلنج ہونا، اللہ کو پانا… اور بہت کچھ۔
یہی قرآن ریفلیکٹ کی خوبصورتی ہے! حقیقت یہ ہے کہ قرآن ریفلیکٹ چلانے والے علماء اور دیگر افراد آپ کے خیالات کو پڑھنے کے خواہشمند ہیں کیونکہ ہم واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس گفتگو میں شامل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے، اور یہ بات جاننا کہ آیات کو مختلف لوگوں نے کس طرح سے قبول کیا اور سمجھا، نہ صرف ہمیں ایک استاد کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریوں کا شعور دلاتی ہے بلکہ ہماری سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ آپ جو چیز اچھی طرح سےجانتے ہیں، اسے قرآن کے ساتھ اپنے تجربات کے تحت شیئر کرنا ہمیں ایک نئی بصیرت فراہم کرتا ہے۔