Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 8: قرآنی دنیاؤں کا عدسہ (حصہ 2)
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا، یہ عدسہ آپ سے قرآن کی طرف سے پیش کی گئ مختلف دنیاؤں میں غرق ہونے کا مطالبہ کرتا ہے ، تاکہ ہم اس کے بیانات میں موجود رہنمائی اور حکمت کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
"غور و فکر میں قیاس کا کیا کردار ہے؟"
غوروفکر تحقیق پر مبنی ہونا چاہیے، لیکن کبھی کبھی ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے نظریات قیاسی ہیں۔ جب تک ہم یہ یاد رکھیں کہ قیاس پر مبنی نتائج غیر یقینی ہیں، تب تک ہمیں اپنی طرف سے بہترین کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
"اگلی 'دنیا' کون سی ہے؟"
کل کا سبق وحی کی دنیا کے بارے میں تھا، اور آج کا سبق اس سے تاریخی اعتبار سے مشابہت رکھتا ہے: لیکن اس بار ہم ماضی کی قوموں کی دنیا کے بارے میں سوچیں گے۔
"ماضی کی قوموں کی دنیا کیا ہے؟"
اللہ ﷻ نے کچھ منتخب قوموں کی تاریخ پیش کی ہے اور ان کی زندگیوں، اعمال، اور ان کے ساتھ ہونے والے واقعات کی جھلک فراہم کی ہے۔ اس میں وہ نبی اور رسول شامل ہیں جو تمام قوموں کو خبردار کرنے اور رہنمائی کرنے کے لیے بھیجے گئے، اور وہ لوگ جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اللہ کی خوشنودی میں زندگی گزاری۔ اس میں وہ قومیں بھی شامل ہیں جنہیں مختلف گناہوں سے باز رہنے کی دعوت دی گئی، اور جنہوں نے اکثر رسولوں کے مخالفت کی اور اپنی ہلاکت کا سامان کیا۔
"قرآن میں بعض تاریخی واقعات پر زیادہ زور کیوں دیا گیا ہے؟"
ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ قرآن میں تاریخ کے کچھ حصے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے بیان کیے گۓ ہیں، جیسے کہ کئی نبیوں کے قصّے جو بنی اسرائیل میں سے تھے۔ یہ ایک اہم مثال ہے جو اس تاریخی دور کو نمایاں کرتی ہے جو ان لوگوں کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے جو اس کا مطالعہ کرتے ہیں، تاکہ وہ اللہ ﷻ کی منتخب کردہ کہانیوں کی قدر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
"کیا آپ اس عدسے کا استعمال کرتے ہوئے ایک مثال دے سکتے ہیں؟"
اب جب کہ اصول واضح ہو گئے ہیں، میں ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں جو ماضی میں کچھ لوگوں کے لیے کچھ متنازع رہی ہے۔
جب میں نے سورۃ یوسف پر غور کیا، خاص طور پر اس واقعے پر جس میں وزیر کی بیوی نے دوسری خواتین کو بلایا جو اس کا مذاق اڑا رہی تھیں، تو میں نے منظر کو تصور کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں میں نے آپ کو تخیل کے استعمال کی ہدایت دی ہے۔ اگر ہم اسباق حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کہے جانے والے الفاظ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں پر بھی کام کرنا ہوگا جو کہ بیان نہیں کی گئی۔
> "اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی ۔ اور کہا اے یوسف ان کے سامنے چلے آؤ ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور زبان سے نکل گیا کہ حاشا للہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں ، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔" (قرآن 12:31)
تو، میرے خیال میں اس منظر میں شراب شامل ہونے کا امکان بالکل واضح تھا۔ اس بنیاد پر، میں نے مزید غور و فکر کیا کہ شراب نے دیگر قرآنی قصّوں میں کیا کردار ادا کیا ہو گا۔ کیا وہ تب نشے میں تھے جب انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی پچھل کاٹ دی؟ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں کیا؟ شراب نوشی تو ہر دور اور ثقافت میں زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ تو ہاں، میں قیاس کر رہا ہوں، لیکن یہ یقینی طور پر ایک معقول قیاس ہے!
تاہم، کچھ لوگوں کو اس بات نے بےچین کیا کہ میں نے یوسف کی کہانی میں شراب نوشی کا تصور شامل کیا۔ میں نے ان سے پوچھا، اگر میرا شراب نوشی کے بارے میں قیاس کرنا غلط ہے، تو کیا یہ غلط نہیں کہ ہم پاکیزگی کا قیاس کریں؟ کون سا قیاس زیادہ معقول ہے؟ خاص طور پر تب جب ہم اس سورت میں یہ نوٹ کرتے ہیں کہ شراب کا ذکر کئی بار کیا گیا ہے؟ جب اس نے انہیں دعوت دی، کیا ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس نے انہیں بغیر شراب کے مشروبات پیش کیے ہوں گے؟
کچھ لوگوں نے میری اس بات پر اعتراض کیا کیونکہ انہیں لگا کہ اس سے یوسف علیہ السلام کی معجزاتی خوبصورتی میں کچھ کمی آ جاتی ہے کیونکہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان عورتوں نے صرف نشے میں ہونے کی وجہ سے اپنے ہاتھ کاٹ دیے، نہ کہ یوسف علیہ السلام کو دیکھ کرحیران رہ جانے کی وجہ سے۔ میرا جواب یہ ہے کہ یہ آیت اس بات کو ثابت کرنے کے لیے نہیں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کتنے خوبصورت تھے؛ اس مفروضے سے شروع کرنا ایک مسئلہ ہے(یعنی درست نہیں) کجا کہ پھر اتنا آگے بڑھنا کہ یہ کہنا کہ یہ ایک شراب سے پاک تقریب تھی تاکہ اس معنی کو اجاگر کیا جا سکے!
براہ کرم مجھے اس مثال پر تھوڑی تفصیل سے بات کرنے کیلیے معاف کیجیے گا۔ مقصد صرف یہ بیان کرنا تھا کہ ایسے معاملات یقینی طور پر بحث کے لیے کھلے ہیں۔ میرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی بہت سیدھی سادہ پڑھائی کو چیلنج کرنا چاہئیے اور الفاظ کے پیچھے چھپے معنی تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ قرآنی دنیا کا عدسہ استعمال کرنے کا ایک بنیادی مقصد ہے۔