Back to Learning Plan
قرآن پر تدبر کے پانچ عدسے
Day 4: الفاظ کا عدسہ
اپنے پانچ عدسوں میں سے پہلے عدسے کی مزید وضاحت اور کچھ مثالوں کے ذریعے آپ کو اس راستے پر گامزن کرنے سے پہلے میں کچھ تمہیدی نکات بیان کرنا چاہوں گا۔
"*** عدسہ کیا ہے؟*"**
ہم ہر عدسے کو سوالات کے ایک مجموعے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم قرآن کے متن پر غوروفکر کرتے ہیں۔ ہمیں تجسس کا عادی ہونا چاہیے اور سوالات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان سوالات کے جوابات کیسے حاصل کیے جائیں (یہ ضروری نہیں کہ صرف ایک ہی جواب ہو)۔
"ہم ہر عدسے کو سوالات کے ایک مجموعے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم قرآن کے متن پر غوروفکر کرتے ہیں۔" — ڈاکٹر صہیب سعید
سب سے پہلے، اسلامی علمی ورثے کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس سے ہم فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر کوئی ان کتب تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور اگرچہ ان میں ہزاروں سوالات کے جوابات موجود ہیں، پھر بھی وقت کے ساتھ ساتھ مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک زندہ اور متحرک علمی ورثے اور سوال و جواب کے وسائل کی ضرورت ہے – کچھ ایسا ہی ہم قرآن فاؤنڈیشن کے ذریعے شروع کر رہے ہیں۔
"کیا میں خود سوالات کے جوابات دے سکتا ہوں؟"
ہمارا پہلا عدسہ متن سے متعلق سوالات پر مشتمل ہے، لیکن دیگر عدسے مختلف علم کے شعبوں پر مشتمل ہیں۔ کچھ سوالات کے جوابات ہم خود دے سکتے ہیں، اور کچھ کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مجھے خود معلوم ہو کہ کیا میں اس سوال کا جواب دینے کے قابل ہوں، اور اگر میرے پاس جواب ہے تو وہ پختہ ہے یا محض قیاس آرائی ہے (جو ہمیشہ برا نہیں ہوتا – اس پر ہم دوسرے عدسے میں مزید بات کریں گے)۔
"کیا مجھے الفاظ کے عدسے کے استعمال کے لیے عربی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے؟"
جب آپ "الفاظ" کے بارے میں سنتے ہیں، تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ عربی زبان کے بارے میں ہے – اور آپ بالکل درست ہوں گے۔ یہ عدسہ ان سوالات سے متعلق ہے کہ یہاں کچھ چیزیں کیوں کہی گئ ہیں(یا کیوں نہیں کہی گئیں)، اور کیوں کچھ الفاظ اور جملے استعمال کیے گئے ہیں۔
لیکن گھبرائیں نہیں، میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسا عدسہ ہے جسے ہر کوئی استعمال کر سکتا ہے، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو عربی زبان جاننے کی نعمت سے مستفید نہیں ہوئے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ہم قرآن کی زبان(عربی) نہیں جانتے، تو غور و فکر کرنے کے ہمارے طریقے بہت محدود ہوں گے۔ ممکن ہے کہ ترجمے پر انحصار کرنے سے ہم کسی ایسی چیز کو نوٹ کریں جو وہاں نہیں ہے(یعنی بیان نہیں کی گئ)، یا کوئی ایسی چیز نظر انداز کردیں جو وہاں موجود ہے(یعنی بیان کی گئی ہے)
کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس عدسے کو تھوڑا بعد میں بیان کرنا چاہئیے، لیکن میں اسے پہلے اس لیے بیان کرتا ہوں کہ کسی اور طریقے/عدسے سے پہلے ہمیں قرآن کو اپنے رب کے “الفاظ” کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ جب ہمیں ان الفاظ کا کچھ اندازہ ہو جائے گا، تو ہم انہیں سیاق و سباق کے مطابق سمجھنے اور دیگر چیزوں سے جوڑ سکیں گے۔
"ہمیں قرآن کو اپنے رب کے” الفاظ” کے طور پر سمجھنا چاہیے۔" — ڈاکٹر صہیب سعید
لہٰذا یہ آپ کے لیے ایک حوصلہ افزائی ہے کہ جیسے بھی ہو سکے، عربی زبان سیکھنے کی کوشش کریں۔ ابھی پہلا قدم اٹھائیں اور اللہ ﷻ آپ کے لیے مزید دروازے کھول دیں گے۔ ان شاء اللّٰہ
"آگے کیا ہے؟"
اگلے سبق میں، ہم الفاظ کے عدسے کو استعمال کرنے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیں گے، چاہے وہ عربی زبان میں ہو یا ترجمے کے ذریعے۔ ان شاء اللہ