Back to Learning Plan
زبان کی حفاظت، دل کی عبادت
Day 2: چھپی ہوئی بیماری
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
زبان اکثر دل کا عکس ہوتی ہے۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ ہمارے اندر چھپے ہوئے احساسات کو ظاہر کرتا ہے: جیسے عدم تحفظ، حسد، غرور، یا وہ غصہ جو ابھی ختم نہ ہوا ہو۔ غیبت کرنا ہمیشہ محض بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ گہری روحانی غفلت کی ایک علامت ہوتی ہے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے:
كُلُّ إِنَاءٍ بِمَا فِيه يَنضَحُ
”ہر برتن وہی انڈیلتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔“
دل بھی دوسرے برتنوں کی طرح ایک برتن ہے، اگر اس میں خیر (بھلائی) ہو گی تو یہ خیر ہی انڈیلے گا؛ اور اگر یہ فاسد (خراب) ہو گا تو وہ فساد پورے جسم میں سرایت کر جائے گا اور دوسرے بھی اسے محسوس کریں گے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو لکھا نہ جا رہا ہو۔ یہ آیت جوابدہی (احتساب) کے تصور کو عدالت کے کمرے سے نکال کر ہمارے دیوان خانوں، واٹس ایپ چیٹس اور کام کی جگہوں پر ہونے والی گفتگو تک لے آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا لہجہ، طنز اور سرگوشیوں میں کی گئی تنقید بھی ریکارڈ کی جاتی ہے؛ نہ صرف وہ جو ہم کہتے ہیں، بلکہ وہ بھی کہ ہم کس انداز میں کہتے ہیں۔
اس کے باوجود ہم میں سے بہت سے لوگ باتوں کے وزن کو بھول کر بے مقصد اور لاپروائی سے گفتگو کرتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ سچے مومن وہ ہیں جو بیہودہ اور فضول باتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، نہ صرف گالی گلوچ سے بلکہ ایسی گفتگو سے بھی جس کا کوئی مقصد نہ ہو، یا اس سے بھی بدتر، جو نقصان کا باعث بنے۔
آخر ہم غیبت کیوں کرتے ہیں؟ اکثر یہ دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو برتر ثابت کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ کسی دوسرے کو چھوٹا ظاہر کرنا کیونکہ ہم خود کو (ان کے) برابر محسوس نہیں کرتے۔ بعض اوقات اس کی جڑیں اس شخص کے خلاف حسد، رنجش یا نفرت میں پیوست ہوتی ہیں جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی وقار دوسروں سے موازنے کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ تقویٰ سے حاصل ہوتا ہے: یعنی ایسا دل جو اللہ کے حضور جوابدہی کا احساس رکھتا ہو۔
برائی کرنے کے بجائے، ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم دوسروں میں جس چیز کی تعریف کریں، اس کے جواب میں اس شخص کی زندگی میں برکت کی دعا کریں۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند آئے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے...“ (سنن ابن ماجہ: 3509)۔
ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمارا دل دوسروں کے بارے میں منفی بات کرنے کو چاہتا ہے، چاہے وہ غصے، جھنجھلاہٹ یا اشتعال کی وجہ سے ہو۔ ایسی صورتحال میں، خاموشی اختیار کرنا ہی اکثر دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ اپنی زبان پر قابو رکھنا ہمیں ایسی بات کہنے سے بچاتا ہے جس پر ہمیں بعد میں پچھتاوا ہو، اور یہ ہمیں اللہ کے حضور جوابدہی سے بھی بری الذمہ کر دیتا ہے۔ جیسا کہ عربی کی دانشمندانہ ضرب المثل ہے:
”اگر بولنا چاندی ہے، تو خاموشی سونا ہے۔“
اصلاح اور شفا کا راستہ اس پہچان سے شروع ہوتا ہے کہ ہمارے الفاظ اکثر ہمارے دلوں کی حالت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری گفتگو خوبصورت ہو، تو ہمیں اس کی ابتدا اپنے باطن (دل) کو پاک کرنے سے کرنی ہو گی۔
حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“
(صحیح بخاری: 6136، صحیح مسلم: 47)
عملی سرگرمی
آج اپنی گفتگو کا ایک خاموش جائزہ لیں۔ اپنے فون میں ایک نوٹ بنائیں یا اپنی جیب میں ایک چھوٹا کارڈ رکھیں۔ ہر اس بار جب آپ کسی ایسے شخص کے بارے میں بات کریں جو وہاں موجود نہ ہو، تو تھوڑی دیر کے لیے رکیں اور (اپنے عمل پر) بغیر کسی تنقیدی فیصلے کے اسے نوٹ کر لیں۔ دن کے اختتام پر غور کریں: میرے الفاظ کے پیچھے کیا محرک تھا؟ کیا میں اگلی بار تنقید کی جگہ دعا یا مخلصانہ مشورہ دے سکتا ہوں؟
دعا
رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًۭا تَرْضَىٰهُ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور یہ کہ میں اچھے اعمال کروں جن سے تو راضی ہو ۔
(سورۃ النمل، آیت: ۱۹)
تدبر کا سوال
"جب میں دوسروں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو میں (اپنے اندر کی) کون سی اندرونی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہوں؟ اور اس کے بجائے میں ایسا کیا کر سکتا ہوں جو میری روح کو جِلا بخشے؟"