Back to Learning Plan
زبان کی حفاظت، دل کی عبادت
Day 1: مومن کا آئینہ
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
قرآن صرف غیبت سے روکنے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ ایسا منظر بیان کرتا ہے جو انسان کے دل کو جھنجھوڑ دے: "کیا تم پسند کرو گے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ؟"
قرآن اسے محض گناہ یا غلطی قرار نہیں دیتا، بلکہ یہ ہمارے اندر اس کے لیے ایسی کراہت (گھن) پیدا کرتا ہے کہ ہم سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ: "تم تو اسے (غیبت کو) کبھی پسند نہیں کرو گے!"
ایسی لرزہ خیز مثال کیوں دی گئی؟ اس لیے کہ غیبت کا گناہ نہ صرف اس شخص کی عزت و حرمت کو خاک میں ملا دیتا ہے جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہو، بلکہ یہ غیبت کرنے والے کے اپنے قلب و روح کو بھی کھا جاتا ہے۔ یہ عمل ایسا ہی ہے کہ بظاہر تو ہماری گفتگو ہمیں وقتی طور پر بہت لذیذ اور شیریں محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے اندر کڑواہٹ اور تعفن (یا بدبو) بھر دیتی ہے، جس سے روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اکثر اوقات غیبت ہی بڑے فتنوں اور دشمنیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، جس کا آغاز تو ایک فرد سے ہوتا ہے مگر پھر یہ جنگل کی آگ کی طرح پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔ اس بیماری سے بچنے کا بہترین حل یہ ہے کہ اسے جڑ سے ہی کاٹ دیا جائے۔
غیبت (غیبہ) کا مطلب ہے اپنے کسی مسلمان بھائی یا بہن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں ایسی بات کہنا جو انہیں ناپسند ہو، چاہے وہ بات سچ ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف، تہمت(بہتان) سے مراد ان کے بارے میں کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا ہے۔ یہ دونوں عمل ایک مومن معاشرے کے سماجی ڈھانچے کو بکھیر دیتے ہیں، بداعتمادی پیدا کرتے ہیں، اور اس زبان کو آلودہ کر دیتے ہیں جسے اللہ کی حمد وثنا کے لیے بنایا گیا تھا۔ کوئی بھی ذی شعور انسان اپنی عزتِ نفس کی ایسی پامالی کبھی قبول نہیں کرے گا— خواہ وہ اس کی موجودگی میں ہو یا غیر موجودگی میں— لہٰذا ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جیسا آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
سنتِ نبوی ﷺ میں مومن کی مثال ایک آئینے کی سی دی گئی ہے (سنن ابی داؤد: 4918)، جو سچائی کو نرمی کے ساتھ دکھاتا ہے، نہ کہ ایسے شخص کی جو دوسروں کی پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں بیان کرے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجرات کی آیت کا ختم اپنی رحمت کے ذکر پر کیا ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ماضی میں ہم نے دوسروں کے بارے میں کتنا ہی برا کیوں نہ کہا ہو، اللہ کی معافی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
حدیث
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ؟‘‘ انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو ۔‘‘ عرض کی گئی : آپ یہ دیکھیے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں ( تو ؟ ) آپ نے فرمایا :’’ جو کچھ تم کہتے ہو ، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اگر اس میں وہ ( عیب ) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم: 2589)
یہ حدیث دو ٹوک انداز میں اس عام بہانے کا خاتمہ کرتی ہے جس کا سہارا اکثر غیبت کرنے والے اپنے فعل کو درست ثابت کرنے کے لیے لیتے ہیں۔ لوگ اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "فلاں کے بارے میں یہ بات تو سب جانتے ہیں" یا "یہ غیبت نہیں ہے کیونکہ یہ سچ ہے"۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ "اگر تمہاری کہی ہوئی بات سچ ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر وہ جھوٹ ہے تو تم نے بہتان لگایا۔" یہ حدیث اس گناہ کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام میں غیبت اور بہتان، دونوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
عملی سرگرمی
آج کچھ بھی بولنے سے پہلے رکیں اور خود سے پوچھیں:
"کیا میں یہ بات اس شخص کی موجودگی میں کہہ سکتا ہوں؟"
اگر جواب "نہیں" ہے، تو اسے چھوڑ دیں۔ اگر آپ ماضی میں کسی کی غیبت کر چکے ہیں، تو ان کی بھلائی کے لیے صدقِ دل سے دعا کریں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی پہنچائی ہوئی تکلیف کو مخلصانہ ہمدردی میں بدل دیں۔
دعا
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ، وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ
ترجمہ: اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو دکھاوے سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک فرما۔
تدبر کا سوال
اگر میں کسی کے پیٹھ پیچھے کبھی ایسی کوئی بات نہ کہوں جو میں ان کے سامنے ہمدردی اور سچائی کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، تو میرے تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی؟