Back to Learning Plan
زبان کی حفاظت، دل کی عبادت
Day 3: عزت کی چادر
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
اسلام ہمیں ہر مومن کی عزت و حرمت برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ صرف ان کی موجودگی میں بلکہ خاص طور پر ان کی غیر موجودگی میں، جیسا کہ ہم نے پہلے سبق میں دیکھا۔ یہ کوئی سطحی اخلاق نہیں ہے؛ بلکہ یہ عبادت کی ایک قسم ہے۔ جب آپ کسی شخص کی ساکھ کی حفاظت کرتے ہیں، تو درحقیقت آپ اس وقار کی پاسبانی کر رہے ہوتے ہیں جو خود اللہ نے انہیں عطا کیا ہے۔
سورۃ الحجرات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم دوسروں کا مذاق نہ اڑائیں، چاہے وہ ہنسی مذاق میں ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں؟ کیونکہ جس چیز کا آغاز "محض الفاظ" سے ہوتا ہے وہ مستقل نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آپ کے الفاظ کسی کے لیے تکیے کی طرح راحت کا ذریعہ بن سکتے ہیں، یا پھر تلوار کی طرح زخم لگا سکتے ہیں۔ یہ آیت اس بات سے بھی خبردار کرتی ہے کہ جس کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اللہ کی نظر میں (ہم سے) بہتر ہو۔ ان کے پوشیدہ اعمال، خلوص، یا توبہ ہمارے اپنے اعمال سے کہیں زیادہ وزنی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، دوسروں کے عیبوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے اپنے اعمال کی اصلاح پر توجہ دینا زیادہ فائدہ مند ہے۔
"اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اختلافات اور تنازعات جنم لیتے ہیں، کیونکہ شیطان ہمیں دوسروں کی باتوں کا برے سے برا مطلب نکالنے پر اکسا کر گمراہ کر سکتا ہے، جو آگے چل کر غیبت اور تہمت کا باعث بنتا ہے۔"
سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ۔
نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے میرے کچھ بھائیوں نے مجھے لکھا:
"اپنے بھائی کے معاملے کو بہترین ممکنہ مفہوم پر محمول کرو(یعنی اس کی بات یا عمل کا اچھا مطلب نکالو)، جب تک کہ تمہارے پاس کوئی ایسی بات نہ پہنچ جائے جو اس گمان پر غالب آ جائے۔ اور کسی مسلمان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کا ہرگز برا مطلب نہ نکالو جب تک تم اس کے لیے کوئی اچھا پہلو تلاش کر سکتے ہو۔" (روح المعانی)
"یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں اور ان کی باتوں کے متعلق مثبت رویہ اور اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ یہ ہمیں (بدگمانی اور) مفروضوں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ اکثر منفی گمان ہی منفی گفتگو کی طرف لے جاتا ہے۔"
سورۃ النور ہمیں فحاشی اور برائی کو پھیلانے سے خبردار کرتی ہے، خاص طور پر افواہوں یا تہمت کی صورت میں۔ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہو بھی جائے، تو ایک مومن اسے اچھالتا نہیں ہے؛ بلکہ وہ اس پر پردہ ڈالتا ہے، ہدایت کے لیے دعا کرتا ہے، اور معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے (جو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے)۔ دوسروں کے عیبوں کو بے نقاب کرنے کا شوق ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
"ہماری زبانیں یا تو پردہ پوشی کر سکتی ہیں یا پھر پردہ دری (حرمت پامال) کر سکتی ہیں۔ ایک مومن پردہ پوش بننے کا انتخاب کرتا ہے۔"
حدیث
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کی عزت )اس کی غیر موجودگی میں( بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا“
جامع ترمذی: 1931
بطور انسان، اکثر ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ حالات، واقعات اور دوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے خیالات اور نقطہ نظر کا اظہار کریں؛ تاہم، ہمیں خود کو اور ایک دوسرے کو نقصان دہ گفتگو یا باتوں میں حد سے گزر جانے سے بچانا چاہیے۔
عملی سرگرمی
"آج اگر آپ کسی کو غیبت کرتے ہوئے سنیں، تو 'حفاظتی خاموشی' اختیار کریں یا گفتگو کا رخ نرمی سے موڑ دیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں، 'آئیے ان کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں،' یا موضوع ہی بدل دیں۔ اگر آپ کسی گروپ چیٹ میں ہوں، تو گپ شپ اور غیبت کے پیغامات کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ ممکن ہے کہ ہر اس بے عزتی کو روکنے کے بدلے، جسے روکنے میں آپ نے مدد کی، اللہ آپ کو تنہائی میں (عزت سے) نواز دے۔"
دعا
اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا
"اے اللہ! ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور ہمیں ہمارے خوف سے امن عطا فرما۔"
تدبر کا سوال
"میں کتنی بار اس انداز میں بات کرتا ہوں یا مذاق کرتا ہوں جس سے کسی دوسرے کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے، اور اگر میرے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے تو مجھے کیسا محسوس ہوگا؟"