Back to Learning Plan
زبان کی حفاظت، دل کی عبادت
Day 4: جب آپ غیبت سنیں
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
"غیبت اکثر خاندانی دعوتوں، کام کے دوران وقفوں، یا عام بات چیت میں بڑی صفائی سے چھپی ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو انسان اسے مذہبی اصطلاحات کا لبادہ پہنا کر (نیک نیتی کے نام پر) بیان کرتا ہے! یہاں تک کہ اگر ہم خود اس میں حصہ نہ بھی لیں، تو محض اسے سننا بھی ہمیں اس گناہ میں شریک کر سکتا ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ جب صالحین کا سامنا لغو یا نقصان دہ گفتگو سے ہوتا ہے تو وہ کیسا ردعمل دیتے ہیں: وہ وہاں سے ہٹ جاتے ہیں، گفتگو کا رخ موڑ دیتے ہیں، اور تکبر کے بغیر اپنی اقدار کو واضح کر دیتے ہیں۔"
سورۃ القصص ہمیں دکھاتی ہے کہ اہل ایمان ایسی (لغو) باتوں کا جواب وقار اور سلامتی کے ساتھ دیتے ہیں: ”ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔“ یہ کوئی خود پسندی یا بڑائی کا اظہار نہیں ہے؛ بلکہ یہ برائی میں شریک ہونے سے ایک خوبصورت اور شائستہ انکار ہے۔ یہ کہنے کا ایک انداز ہے کہ: ”ہماری توجہ اپنے دلوں، اپنے سفر اور اپنی جوابدہی پر مرکوز ہے۔“
سورۃ الانعام اس سے بھی آگے کی بات کرتی ہے: اگر آپ نقصان دہ یا توہین آمیز گفتگو کی محفل میں موجود رہتے ہیں، چاہے آپ خود اس میں شامل نہ بھی ہوں، تب بھی یہ آپ کے دل کو بے حس بنا سکتی ہے۔ اگر آپ بھول جائیں (اور ایسی محفل میں بیٹھ جائیں)، تو اللہ نے آپ کے لیے واپسی کا راستہ رکھا ہے۔ لیکن اگر آپ جان بوجھ کر وہاں ٹھہرے رہتے ہیں، تو وقت کے ساتھ یہ چیز آپ کو بدل دیتی ہے۔ ہم ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ خاموشی سے سننا بھی دل کی حالت کو ڈھال دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ہم ان باتوں کو معمول سمجھنے لگتے ہیں جنہیں ہم (خاموشی سے) برداشت کرتے ہیں۔
"بغیر کسی تصادم یا لڑائی جھگڑے کے (حق کے لیے) کھڑے ہونا ایک نبوی صفت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کبھی دوسروں کو شرمندہ کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی بلکہ ہمیشہ دلوں کا رخ موڑ دیا۔ اسی طرح، جب ہم غیبت سنیں، تو ہماری خاموش ناپسندیدگی یا گفتگو کا نرمی سے رخ موڑ دینا ہی وہ واحد یاد دہانی ہو سکتی ہے جس کی کسی کو ضرورت تھی۔"
حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (اسے روکے)۔ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے (اسے برا جانے) – اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“
صحیح مسلم: 49
عملی سرگرمی
"آج کسی ایسی حقیقی صورتحال کا انتخاب کریں جہاں آپ کو غیبت سننے کا خدشہ ہو: مثلاً کوئی گروپ چیٹ، کام کی جگہ، یا خاندان کی کوئی محفل۔ اپنے ردعمل کی منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں۔ یہ ردعمل گفتگو کا رخ موڑنا، کوئی یاد دہانی کروانا، یا باوقار طریقے سے وہاں سے ہٹ جانا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد، یہ لکھیں کہ (اس گناہ کے) بہاؤ کو روک کر آپ کو کیسا محسوس ہوا۔ اللہ کے ترازو میں خاموش مزاحمت کی بھی قدر کی جاتی ہے۔"
دعا
رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
ترجمہ: " اے میرے پروردگار ! تو مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے اپنے صالح بندوں میں شامل کر دے۔" (سورۃ الشعراء: 83)
تدبر کا سوال
"جب میرے سامنے دوسرے لوگ غیبت کرتے ہیں، تو کیا میں ان (غائب اشخاص) کی ساکھ کی حفاظت کرنے میں زیادہ بہادری محسوس کرتا ہوں یا خاموش رہنے میں زیادہ عافیت سمجھتا ہوں؟ میں ان میں سے کس صفت کو اپنے ایمان کی پہچان بنانا چاہتا ہوں؟"