Back to Learning Plan
ہجومِ زیست میں برکت کی خوشبو
Day 5: رضائے الٰہی کے لیے بامقصد زندگی گزارنا
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
"ایمان پر مبنی معمول کا مطلب صرف مصروف رہنا نہیں ہے، بلکہ با مقصد ہونا ہے۔ اسلام ہمیں ہر وقت دوڑتے رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ ہمیں بامعنی زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آرام بھی (درست) نیت کے ساتھ کیا جائے، تو وہ بھی عبادت بن جاتا ہے۔ آپ کی پوری زندگی اللہ کے حضور پیش کی جانے والی ایک خاموش نذرانہ بن سکتی ہے، اگر آپ اپنے ہر کام میں اسے یاد رکھیں۔"
سورۃ الانعام (6:162) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا ہر عمل—ہماری نماز، ہماری قربانی، ہمارا جینا اور یہاں تک کہ ہمارا مرنا بھی—اللہ کے لیے ہو سکتا ہے؛ اور اس طرح زندگی، موت اور ان کے درمیان کی ہر چیز عبادت بن سکتی ہے۔
نیت ہی وہ راز ہے جس سے زندگی میں برکت آتی ہے۔ جب دل پکارتا ہے کہ "اے اللہ! یہ تیرے لیے ہے"، تو معمولی سے روزمرہ کے کام بھی دائمی اجر کا باعث بن جاتے ہیں۔
سورۃ الزلزال (99:7) میں اللہ تعالیٰ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ نیکی کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ ذکرِ الٰہی میں گزارے گئے پانچ منٹ، موبائل اسکرولنگ کے بجائے غور و فکر کا انتخاب، فجر سے صرف 10 منٹ پہلے بیدار ہونا، یا کسی کے چھوٹے سے کام میں مدد کر دینا؛ یہ سب بظاہر معمولی لگ سکتے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں خلوصِ نیت سے کیا گیا کوئی بھی عمل ضائع نہیں جاتا۔
"اپنے اگلے اقدامات میں بھی اسی سوچ اور وضاحت کو برقرار رکھیں۔ آغاز بھلے ہی چھوٹا ہو مگر اس میں خلوصِ نیت شامل ہو، اور یاد رکھیں کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک امانت اور (خود کو سنوارنے کا) ایک بہترین موقع ہے۔"
حدیث
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو، اور برائی کے بعد ( جو تم سے ہو جائے ) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔". (جامع ترمذی، حدیث: 1987)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ با مقصد زندگی گزارنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال اور اپنے ماحول، دونوں کے بارے میں چوکنا رہیں۔ چونکہ انسان ہونے کے ناطے ہم سے غلطیاں ہونا لازمی ہے، اس لیے ہمیں طریقہ بھی بتا دیا گیا ہے: یعنی غلط کام کے بدلے فوراً اچھا کام کریں۔ اگر ہماری غلطی کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے، تو اس کا حل یہ ہے کہ ہم پکا ارادہ کریں کہ آئندہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور مہربانی سے پیش آئیں گے۔
اس کا آغاز ایک سچی نیت سے ہوتا ہے جو بعد میں ایک پکے ارادے میں بدل جاتی ہے، اور پھر اللہ کی برکت سے یہی نیت ایک با مقصد زندگی کی صورت میں مہک اٹھتی ہے۔
عملی سرگرمی
ایک سادہ سے صبح کے معمول کا آغاز کریں: اپنے دن کا آغاز کرنے کے لیے تین کاموں کا انتخاب کریں
ایک روح کے لیے/ روحانی : (جیسے قرآن کی تلاوت، دعا مانگنا یا اللہ کا ذکر کرنا)۔
ایک جسم کے لیے/جسمانی : (جیسے دوڑنا، صبح کی سیر کرنا یا پودوں کی دیکھ بھال کرنا)۔
ایک ذہن کے لیے: (جیسے دن کے ضروری کاموں کی لسٹ بنانا، اپنے مقصد طے کرنا یا پورے دن کی منصوبہ بندی کرنا)۔
اسے آسان رکھیں، روزانہ پابندی سے کریں اور کل ہی سے اس کا آغاز کریں۔ یاد رکھیں، ہم ایسی امت ہیں جن کی صبح کے وقت میں برکت دی گئی ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 2238)
دعا
اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
" اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔"
(صحیح مسلم: 2690a)
وضاحت اور اہمیت
یہ دعا، جسے نبی کریم ﷺ کثرت سے پڑھا کرتے تھے، چند مختصر الفاظ میں زندگی اور ابدیت کی ہر بھلائی کو سمیٹے ہوئے ہے۔
• الٰہی مدد: یہ ہماری روزمرہ کی تگ و دو میں اللہ کی رحمت کو شامل کرتی ہے۔
• شکر گزاری: یہ دل میں شکر گزاری کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔
• بنیادی مقصد: یہ ہمارے ہر عمل کے مقصد کو "عبادت" کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
"یاد رکھیں، ایک مومن کا اصل سرمایہ اس کا یہ پختہ یقین ہے کہ اس کے وقت اور نعمتوں کا حساب لیا جائے گا۔ یہ احساس ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ ہمیں اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنے اور ایک بھرپور زندگی گزارنے کا حوصلہ دینے کے لیے ہے۔"
"صرف ایک عادت سے آغاز کریں اور ایک تبدیلی لائیں۔ اللہ سے برکت مانگیں اور اپنا دن اس کی یاد کے ساتھ گزاریں۔ آپ کا یہی روزمرہ کا معمول آپ کی پہچان بن جائے گا۔
اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے وقت اور اپنی نعمتوں کو بامقصد بنائیں اور انہیں ان کاموں میں صرف کریں جن سے وہ راضی ہو جائے۔"
تدبر کا سوال
اگر میں اپنے دن کے ہر گھنٹے کو اللہ کے قریب ہونے یا اس سے دور ہونے کے ایک موقع کے طور پر دیکھوں، تو (میری زندگی میں) کیا تبدیلی آئے گی؟