Back to Learning Plan
شعور کے ساتھ روزے رکھنا
Day 4: رمضان کے شعائر کی تعظیم
"یہ سب کچھ (تم نے سن لیا) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے۔" (سورۃ الحج 22:32)
اپنی ذہنی بیداری اور تقویٰ کی سطح کو جانچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہم مقدس مواقع کی کس حد تک تعظیم کرتے ہیں اور انہیں کس انداز سے قبول کرتے ہیں۔ اسلام میں کچھ مخصوص مقامات اور اوقات کو خاص تقدس حاصل ہے، جیسے حج اور خانۂ کعبہ کا حرم۔ اللہ چاہتا ہے کہ ہم ان مقامات اور اوقات کو عظمت دیں، اور ایسا کرنا دل کے تقویٰ کی علامت ہے۔
ذرا تصور کریں کہ آپ کے گھر کوئی ایسا مہمان آ رہا ہو جسے آپ دل سے عزیز رکھتے ہوں اور جس کی آپ بہت قدر کرتے ہوں۔ لازمی طور پر آپ کی مہمان نوازی اس محبت کا عکس ہوگی۔ آپ اس کے استقبال کے لیے بے تابی سے انتظار کریں گے، شاید گھر سے باہر جا کر اسے لینے جائیں، بہترین کھانے پیش کریں اور ممکن ہے تحفے بھی دیں۔
"اسی طرح رمضان کی تعظیم کے ذریعے ہم یہ ظاہر کرسکتے ہیں کہ رمضان ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی آمد سے پہلے تیاری کریں تاکہ ہم قرآن کے مہینے کا استقبال کھلے دل کے ساتھ کر سکیں۔"
تو رمضان کے مہینے میں اللہ کے شعائر کو عظمت کیسے دی جائے؟
یہاں چند طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے ہم اس مہینے کی تعظیم کر سکتے ہیں:
1۔ رات میں ذکر و عبادت:
رات کے وقت قیام کریں اور اللہ کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کریں۔ رمضان کی راتیں بہت خاص ہیں، کیونکہ قرآن کا نزول سب سے پہلے رات ہی میں ہوا۔ رات ہی وہ وقت ہے جب اللہ اپنی مخلوق کے قریب آتا ہے۔ رات میں کی جانے والی تلاوت دلوں پر زیادہ اثر ڈالتی ہے، اور افطار کے بعد عموماً انسان میں عبادت کے لیے زیادہ توانائی بھی ہوتی ہے۔
رات کی نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
"اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ ! آپ کھڑے رہا کریں رات کو (نماز میں) سوائے اس کے تھوڑے سے حصے کے۔ (یعنی) اس کا آدھا یا اس سے تھوڑا کم کر لیجیے۔ یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جایئے۔ ہم عنقریب آپ ﷺ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ یقینا رات کا جاگنا بہت موثر ہے نفس کو زیر کرنے کے لیے اور بات کو زیادہ درست رکھنے والا ہے۔" (سورۃ المزمل 6-73:1)
تراویح ایک بہترین رات کی نماز ہے جس میں آپ شرکت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کی مصروفیات اجازت نہ دیں تو آپ اکیلے یا اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے کسی بھی حصے میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، اصل چیز تسلسل ہے۔ نبی ﷺ نے رات کی نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
"ہر مومن کو رات میں نماز پڑھنی چاہیے، چاہے وہ اتنی ہی ہو جتنی ایک بکری کا دودھ دوہنے میں لگتی ہے۔ اور عشاء کی نماز کے بعد کا وقت بھی رات ہی میں شمار ہوتا ہے۔" (ابو یعلی)
عام طور پر بکری یا بھیڑ کا دودھ دوہنے میں تقریباً 5 سے 7 منٹ لگتے ہیں، جو ایک مختصر وقت ہے۔ اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کے کلام کی تلاوت کریں اور اس سے دعا کریں۔ اللہ جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے ضرور قبول فرمائے گا۔
2۔ قرآن کی تلاوت اور تدبر کے لیے ایک معمول بنائیں:
ہمیں قرآن کو صرف رمضان تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ قرآن کو رمضان کی قید سے آزاد کرنا ضروری ہے۔ ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ قرآن خوشخبری کا ذریعہ اور دلوں کی خوشی ہے۔ یہ اللہ کا ہمارے لیے آخری خطبہ ہے اور شفا ہے، مگر اکثر ہم اپنے دلوں کا علاج انہی چیزوں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں بیمار کرتی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پرانی عادتوں کو توڑیں، قرآن سے صحیح تعلق قائم کریں اور ایک ایسا معمول بنائیں جو رمضان کے بعد بھی قرآن سے مضبوط وابستگی کا سبب بنے۔
قرآن کا ایک چھوٹا سا حصہ پڑھیں، ترجمہ دیکھیں اور جو تدبر ذہن میں آئے اسے نوٹ کریں۔ یہ سادہ اور قابلِ عمل نکات ہو سکتے ہیں، مثلاً مشکل اور آزمائش کے وقت اللہ کو یاد رکھنا وغیرہ۔
3۔ دعا کریں:
اللہ تعالیٰ روزے کا حکم دینے کے فوراً بعد فرماتا ہے:
"اور (اے نبی ﷺ !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔" (سورۃ البقرۃ 2:186)
یہ آیت روزے اور رمضان کے سیاق میں آتی ہے، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ رمضان اور دعا کے ذریعے اللہ کے قریب ہونے کا گہرا تعلق ہے۔
قرآن سے دعائیں اور مسنون دعائیں سیکھیں اور انہیں اپنی نمازوں میں شامل کریں۔ رمضان کی ایک بڑی خصوصیت دعا کی قبولیت ہے، خاص طور پر آخری عشرے کی طاق راتوں میں۔
یہ اور بھی بہتر ہے کہ آپ مسنون دعائیں (ان کے معانی کے ساتھ) یاد کرنے کی کوشش کریں اور انہیں اپنی تہجد کی نماز میں پڑھیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ کسی بھی نماز میں آپ اپنی زبان میں بھی دعا کر سکتے ہیں، اور یقیناً وہ بھی قبول ہوں گی۔ اصل چیز اللہ کے سامنے عاجزی اور بندگی کا اظہار ہے۔
اللہ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرمائے۔ آمین۔
اس تدبر کے ساتھ قرآن ریفلیکٹ پر تعامل کریں۔
یا اس موضوع پر مزید پڑھیں:
https://quranreflect.com/posts/1770386193866231
اصلاحی رہنمائی:
رات کے قیام کے لیے اپنی نیت درست کریں اور ایک باقاعدہ معمول قائم کریں جس میں قرآن کی باقاعدہ تلاوت شامل ہو۔ اس رات کو اپنے اور اپنی امت کی بھلائی و سلامتی کے لیے دعاؤں میں مشغول رہیں۔ اگلا سبق 'دل میں تقویٰ' کے بارے میں ہے، یعنی دل کی باطنی حالت کو بہتر بنانے اور اسے پاکیزہ بنانے کی کوشش کرنا۔