Back to Learning Plan
شعور کے ساتھ روزے رکھنا
Day 7: تقویٰ اور اخلاقی وضاحت
"اے اہل ایمان ! اگر تم اللہ کے تقویٰ پر برقرار رہو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان پیدا کر دے گا اور دور کر دے گا تم سے تمہاری برائیاں (کمزوریاں) اور تمہیں بخش دے گا۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔" (سورۃ الأنفال 8:29)
جب کوئی مومن اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتا ہے تو یہ کیفیت اسے اس درجے تک جاتی ہے کہ وہ حقیقی خوشی کی انتہا کو پا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اُن لوگوں کے لیے بے شمار فائدے رکھے ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، وہ چار ایسی نعمتیں حاصل کرتا ہے جو دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہیں:
اوّل: الفرقان (یعنی معیار)، یہ وہ علم اور ہدایت ہے جس کے ذریعے انسان ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، اور نیک و بد لوگوں کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔
معیار کیا ہے، اور یہ کیوں اہم ہے؟
یہ معیار دراصل اخلاقی وضاحت ہے، جیسا کہ درج ذیل عبارت میں بیان کیا گیا ہے:
مِن بِتُّ أفْعَلُ كَذا حَتّى سَطَعَ الفُرْقانُ
"میں فلاں فلاں کام کرتا رہا یہاں تک کہ حق اور باطل کا معیار واضح ہو گیا۔"
ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کلبنگ، جوا یا دیگر گناہوں میں مبتلا رہا ہو، یہاں تک کہ ایک دن اس پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ وہ گمراہی کی زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی روش پر جما رہے اور اس کے پاس کوئی معیار ہی نہ ہو جو اسے درست کرے، تو پھر کیا ہوگا؟
حضرت نوحؑ کی مثال لے لیجیے، جنہوں نے اپنی قوم سے کہا:
"کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔" (سورۃ نوح 71:3)
وہ عظیم ترین انبیاء میں سے تھے، جنہوں نے دن رات، بہترین اسلوب کے ساتھ اپنی قوم کو دعوت دی، مگر وہ گمراہی پر اڑے رہے اور آخرکار ہلاک کر دیے گئے۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب عذاب انہیں گھیر چکا تھا تب بھی وہ سمجھتے تھے کہ پہاڑوں اور بلند مقامات پر پناہ لے کر بچ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس کوئی معیار نہ تھا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچنے کے قابل بناتا، حالانکہ اس کی نشانیاں ان کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔
"جب کسی شخص کو معیار عطا کر دیا جاتا ہے تو وہ درست فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے حق اور باطل دھندلا نہیں رہتا، اور یہی بات اسے جنت کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر قائم رکھتی ہے۔"
ایسے شخص کے بارے میں سوچیں جو ہزاروں میل کا سفر بغیر نقشے یا نیویگیشن سسٹم کے طے کرے۔ غالب امکان ہے کہ وہ راستہ بھٹک جائے، ایندھن ختم ہو جائے اور سفر کے آخر میں خالی ہاتھ رہ جائے۔ سب سے بہترین معیار بلا شبہ اللہ کی کتاب، الفرقان (قرآن) ہے۔ گویا اللہ فرما رہا ہے کہ جو شخص اس کا تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے لیے اپنی ہدایت (قرآن) پر چلنا آسان کر دے گا اور اسے حق و باطل میں تمیز کی بصیرت عطا کرے گا، جو دائمی خوشی اور کامیابی کا ذریعہ بنے گی۔
دوسرا اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے، یعنی دنیا میں ان کی برائیاں مٹا دی جاتی ہیں، اور آخرت میں ان کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں۔ گناہوں کا کفارہ عموماً صغیرہ گناہوں کے لیے ہوتا ہے، جبکہ مغفرت کبیرہ گناہوں کو بھی شامل ہوتی ہے، اور دونوں ایک دوسرے کو محیط ہیں۔
چوتھا: وہ عظیم اجر اور بے حساب بدلہ جو ان لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اپنی خواہشات پر اللہ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں، جیسا کہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا: "اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔" (سورۃ الأنفال 8:29)
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے شخص کو دنیا اور آخرت دونوں میں بے حد برکتیں نصیب ہوں گی، کیونکہ وہ ہر حال میں اللہ کی یاد اور اس کا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔
اصلاحی رہنمائی:
جعلی خبروں اور AI سے تیار کردہ مواد کے اس دور میں اچھے اور برے کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ حق و باطل میں تمیز کی اپنی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اللہ کی ہدایت پر گہری توجہ دیں۔
اگلا سبق 'حدود کے ساتھ زندگی کا لطف' کے موضوع پر ہے، اور یہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح تقویٰ ہمیں مادیت اور روحانیت کے درمیان اعتدال اور توازن پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔