Back to Learning Plan
شعور کے ساتھ روزے رکھنا
Day 2: رمضان کا اصل مقصد: تقویٰ
یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ بہت سے مسلمان رمضان سے اس طرح گزرتے ہیں جیسے کوئی مسافر بس میں بیٹھا ہو جسے اپنی منزل کا ہی علم نہ ہو۔
رمضان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے اصل مقصد سے جُڑ جائیں اور وہ مقصد ہے تقویٰ کا حصول۔ رمضان کے ہر لمحے، ہر حرکت اور ہر عبادت میں ہمیں اس الٰہی مقصد کو یاد رکھنا چاہیے۔ اس طرح رمضان کا کوئی لمحہ بھی اس مقصد سے خالی نہیں رہے گا۔ اگر ہم اسی شعور کے ساتھ رمضان گزاریں تو ان شاء اللہ ہم اس مہینے سے ایک بہتر، بدلا ہوا انسان بن کر نکلیں گے جو زندگی بھر اللہ کی بندگی اور پرہیزگاری کے لیے تیار ہوگا۔
روزے کا مقصد اللہ تعالیٰ نے خود نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:
"اے ایمان والو ! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔" (سورۃ البقرۃ 2:183)
یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ روزہ بغیر مقصد کے فرض نہیں کیا گیا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں خود یہ نہ چھوڑا کہ ہم اپنی عقل سے یہ طے کریں کہ اللہ کی قربت اور تقویٰ کیسے حاصل ہو۔ بلکہ اللہ نے ہمیں وہ طریقہ خود عطا فرما دیا جس کے ذریعے ہم اس مقصد تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس ایک ہی آیت میں رمضان کا مقصد بھی بیان کر دیا گیا اور تقویٰ تک پہنچنے کا راستہ بھی، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کا اظہار ہے۔
"چونکہ رمضان کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے، اس لیے ہمیں رمضان کے ہر لمحے میں اسے اپنے ذہن کے سامنے رکھنا چاہیے۔"
ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔" (بخاری: 5066، مسلم: 1400)
روزہ دراصل ضبطِ نفس کا نام ہے۔ جب ہم روزے کے دوران خود کو روکتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو نظم و ضبط کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے نفسِ امّارہ اور شیطان کے فتنوں کے خلاف اپنی حفاظت مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ خود پر قابو پا کر ہم آخرت کے عذاب سے بھی اپنی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ کی ہمہ وقت یاد ہمارے رویّوں کو دین کی اقدار کے مطابق ڈھال دیتی ہے۔
رمضان ہمیں اللہ اور اس کی کتاب کے لیے گہرا احترام عطا کرتا ہے، جس سے ہم قرآن کی ہدایت کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن سے حقیقی ہدایت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں:
"یہ الکتاب ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔" (سورۃ البقرۃ 2:2)
چونکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے تقویٰ شرط ہے، اور ہدایت کا درجہ تقویٰ کے درجے کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے رمضان ہمیں اس لیے دیا گیا تاکہ ہم تقویٰ میں اضافہ کر کے قرآن سے زیادہ ہدایت حاصل کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ ۔" (سورۃ البقرۃ 2:185)
تقویٰ ہماری بقا کے لیے کیوں ضروری ہے؟
"تقویٰ ایک عمر بھر کی جدوجہد ہے۔ ہمیں اسے ایسے تھامے رکھنا چاہیے جیسے کوئی شخص کھائی کے کنارے چٹان کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے۔ ہمیں اسلام پر جینا ہے اور اسلام پر ہی مرنا ہے۔"
تو انسان کیسے یقینی بنائے کہ وہ ایمان پر زندہ رہے اور ایمان ہی پر مرے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یوں دیا:
"اے اہل ایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔" (سورۃ آلِ عمران 3:102)
حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"اللہ کا تقویٰ یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے، اور اسے یاد رکھا جائے اور بھلایا نہ جائے۔" (تفسیر ابن کثیر)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تقویٰ ہی وہ ڈھال ہے جو ہمارے ایمان کی حفاظت کرتی ہے اور ہمیں آخری سانس تک اللہ کے تابع رکھتی ہے۔
ہمیں تقویٰ کی زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ہم انسان ہیں اور کبھی نہ کبھی لغزش ہو ہی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان ہمیں عطا کیا گیا تاکہ ہم اپنی اس بنیادی ضرورت کو دوبارہ مضبوط کریں جو ہماری آخرت کی نجات کے لیے لازم ہے۔ کیونکہ کامیاب صرف وہی ہوں گے جو تقویٰ والے ہوں گے۔
تقویٰ ہی وہ واحد ضمانت ہے جو آخرت میں اللہ کی حفاظت دلوا سکتی ہے، اور اللہ فرماتا ہے کہ روزہ تقویٰ کو مضبوط کرتا ہے:
"اے ایمان والو ! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔" (سورۃ البقرۃ 2:183)
اور فرمایا:
"اے اہل ایمان ! صبر کرو اور صبر میں اپنے دشمنوں سے بڑھ جاؤ اور مربوط رہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔" (سورۃ آلِ عمران 3:200)
فارمولہ:
الصوم ← التقویٰ ← الفلاح
روزہ ← تقویٰ ← کامیابی
جب ہم اس فارمولے کو سامنے رکھ کر روزہ رکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اللہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے، اور اسی لیے اس نے روزہ جیسا عظیم تحفہ عطا کیا۔ ہاں، ہمیں صبح کی کافی بھی چاہیے، پوری نیند بھی مگر رمضان میں ان چیزوں کی قربانی ہمیں خود پر قابو سکھاتی ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے اپنے جذبات، خواہشات اور رویّوں کو قابو میں رکھنا۔ اکثر گناہ تقویٰ کی کمی سے ہی جنم لیتے ہیں، اور یہی گناہ آخرت کی کامیابی کو کمزور کر دیتے ہیں۔
جو شخص اپنے عمل میں اللہ سے ڈرتا ہے، وہ قیامت کے دن حقیقی کامیابی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"(ذرا تصور کریں اس دن کا) جس دن اہل تقویٰ کو ہم جمع کر کے لائیں گے رحمن کی طرف وفود کی صورت میں۔" (سورۃ مریم 19:85)
اللہ ہمیں ان پرہیزگاروں میں شامل فرما دے جنہیں عزت کے ساتھ جمع کیا جائے گا۔ آمین۔
اس عنوان پر مزید مطالعہ کے لیے قرآن ریفلیکٹ پر یہ تدبر پڑھیں۔
https://quranreflect.com/posts/1770376805606582
دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
’’ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ، پاک دامنی ، اور ( دل کا ) غنا مانگتا ہوں ۔‘‘ (صحیح مسلم: a 2721)
اگلا سبق اس بات پر ہوگا کہ تقویٰ کیوں ضروری ہے اور جب ہم تقویٰ حاصل کرتے ہیں تو ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔