Back to Learning Plan
رمضان کے لیے دلوں کی تیاری
Day 4: دل کی حفاظت نظم و ضبط کے ذریعے
انسانی دل دھڑکن، ردھم اور جذبات کے اعتبار سے ہمیشہ تبدیلی کا شکار رہتا ہے۔ عربی زبان میں اُتار چڑھاؤ کی کیفیت کے لیے فعل "قَلَبَ" استعمال ہوتا ہے، جو لفظ "قَلْبٌ" (دل) سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس مفہوم کے تحت ہمارا دل دو چیزوں پر ردِّعمل ظاہر کرتا ہے: ایک ہُدیٰ (ہدایت)، جو دل میں ایمان کی روشنی پیدا کرتی ہے، اور دوسری ہَوا (خواہشات)، جو دل کو نقصان پہنچاتی ہے اور بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔
"انسانی دل دھڑکن، ردھم اور جذبات کے اعتبار سے ہمیشہ تبدیلی کا شکار رہتا ہے۔"
شیخ حماد فہیم
جہاں تک ہدایت کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ غار کے نوجوانوں (جن کا ذکر سورۃ الکہف میں آیا ہے) کو ایمان لانے کے بعد مضبوطی عطا کی گئی، اور اللہ نے ان کی ہدایت میں مزید اضافہ فرما دیا۔
قرآن ہدایت ہے کیونکہ یہ ہمارے دلوں کو منور کرتا ہے اور ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔ ہدایت اور خواہشات کے درمیان یہ تضاد حضرت موسیٰؑ کے واقعے میں نہایت خوبصورتی سے واضح ہوتا ہے۔ قرآن اس واقعے کو بیان کرتا ہے جب حضرت موسیٰؑ اندھیری وادی میں روشنی کی تلاش میں تھے۔
ان ہدایات میں سے جو اللہ تعالیٰ نے مقدس وادی میں حضرت موسیٰؑ کو عطا فرمائیں، ایک اہم تنبیہ یہ تھی کہ انہیں ان لوگوں سے متاثر ہو کر یومِ حساب سے غافل نہیں ہونا چاہیے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کو دی جانے والی ابتدائی اور بنیادی ہدایات میں سے ایک یہ تھی کہ قیامت قریب ہے، اس لیے ان لوگوں کی باتوں میں آ کر اس یقین اور اس دن کی تیاری سے غافل نہ ہو جانا جو ایمان نہیں رکھتے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اپنی خواہشات کی پیروی ہمیں اس کی ہدایت سے دور اور بالآخر ندامت کی طرف لے جاتی ہے۔
رمضان ہمیں یہ سوچنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے دلوں میں کیا داخل ہونے دیتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ہم اپنی معمولی اور اکثر تباہ کن خواہشات کے مقابلے میں اللہ کی رحمت بھری ہدایت کو ترجیح دے سکیں۔ رمضان میں یہ انتخاب آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہم اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتے ہیں، اور یہ ربانی ماحول ہمیں ہدایت کی طرف مائل ہونے میں مدد دیتا ہے۔
اکثر ہمارا نفس (نچلا نفس) ہی وہ رکاوٹ بن جاتا ہے جو ہمیں اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے سے روکتا ہے۔ اپنی خواہشات کو قابو میں لانے کے لیے ہمیں اپنے نفس کو اس حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا جسے مسلسل تربیت اور ضبط کی ضرورت ہے۔
عربی شاعر ابو ذُؤَیب الہُذَلیؒ (وفات 648ء) نے کہا:
وَالنَفسُ راغِبِةٌ إِذا رَغَّبتَها
فَإِذا تُرَدُّ إِلى قَليلٍ تَقنَعُ
“نفس کا یہ حال ہے کہ جب تم اسے کھلی چھوٹ دے دیتے ہو تو وہ مزید کا خواہش مند ہو جاتا ہے، اور جب تم اسے قابو میں رکھتے ہو تو وہ تھوڑے پر بھی قناعت کرنے لگتا ہے۔”
والنفس كالطفل إن تهمله شب على
حب الرضـــــاع وإن تفـطمه ينفطــم
"اور نفس بچے کی مانند ہے کہ اگر تم اسے چھوڑ دو تو وہ دودھ کی محبت پر ہی پروان چڑھتا رہتا ہے، اور اگر تم اسے چھڑا دو تو وہ خود ہی باز آ جاتا ہے۔"
وجاهد النفس والشيطان واعصهـــما
وإن هما محـــضاك النـــصح فاتــهــم
"اور نفس اور شیطان سے جہاد کرو، اور ان دونوں کی نافرمانی کرو، اور اگر وہ تمہیں خلوص کے ساتھ خیرخواہی کا مشورہ دیں بھی، تو ان پر بھی شک کرو۔"
فاصرف هواها وحاذر أن تولــــــــــيه
إن الهـــــــوى ما تولى يصم أو يصــم
پس اس کی خواہش سے منہ موڑ لو، اور اس بات سے خبردار رہو کہ کہیں تم اسے اختیار نہ دے بیٹھو
کیونکہ خواہشِ نفس جس پر غالب آ جائے، وہ (انسان کو) اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔
چونکہ ہمارے دل مسلسل خیر اور شر کے درمیان رہتے ہیں، اس لیے ہم یہ طے کرتے ہیں کہ دل کس راستے پر چلے گا: یا تو اسے ہدایت سے سیراب کر کے، یا پھر تباہ کن خواہشات کے سامنے لا کر اسے بگاڑ کر۔ اس ماہِ شعبان میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بہترین ہدایت، یعنی قرآن سننے، قبول کرنے اور اس پر غور کرنے کا عادی بنائیں۔
"اس ماہِ شعبان میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بہترین ہدایت، یعنی قرآن سننے، قبول کرنے اور اس پر غور کرنے کا عادی بنائیں۔" شیخ حماد فہیم
"خواہشات پر قابو پانے کے لیے قرآنی علاج کیا ہے؟"
قرآن خواہشات کے مسئلے کا علاج درجِ ذیل نکات میں بیان کرتا ہے۔
سب سے پہلے خواہشات کی مزاحمت کرنا اور انہیں روکنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
یہاں فقرہ “اپنے رب کے مقام” سے دو باتیں مراد لی جا سکتی ہیں:
الف) اللہ کا وہ مقام کہ وہ قادرِ مطلق خالق ہے، جو ہمیں دیکھتا ہے، ہماری نگرانی کرتا ہے، اور ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اس سے باخبر ہے۔
ب) وہ مقام جہاں ہمیں اس کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ہمارے تمام اعمال کا مکمل حساب لیا جائے گا۔
ان دونوں باتوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہمیں گناہوں کے ارتکاب سے روکے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت اللہ کی کتاب کے ذریعے حاصل کی جانی چاہیے، جسے اس نے اپنے رسول کے ذریعے نازل فرمایا، اور اسی کی پیروی اختیار کی جانی چاہیے۔ اسی کتاب میں نفس کی خواہشات کے پیچھے چلنے سے بچنے کے لیے دلوں کے لیے پناہ اور کفایت موجود ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
تیسری بات یہ ہے کہ چونکہ انسانی نفس اپنی خواہشات کی طرف مائل ہوتا ہے، اس لیے قرآن اس فطری رجحان کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم وہ ہمیں اپنی خواہشات کی حد سے زیادہ پیروی سے روکتا ہے اور ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ نفس کی پیروی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جو شخص اپنی خواہشات اور نفس کی پیروی کرتا ہے، چاہے وہ اسے جہاں بھی لے جائیں، وہ دراصل اپنی خواہشات ہی کا مطیع بن جاتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ نافرمانی کا یہ عمل لازماً دل پر اثر انداز ہوتا ہے، یہاں تک کہ دل اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرنے لگتا ہے۔ یہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اختیار کرنے کی ایک صورت ہے اور خواہشات کو اللہ کے سوا معبود بنا لینے کے مترادف ہے۔
"جو شخص اپنی خواہشات اور نفس کی پیروی کرتا ہے، چاہے وہ اسے جہاں بھی لے جائیں، وہ دراصل اپنی خواہشات ہی کا مطیع بن جاتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔" شیخ حماد فہیم
اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لیے درج ذیل لنکس ملاحظہ کریں:
https://quranreflect.com/posts/16810