Back to Learning Plan
رمضان کے لیے دلوں کی تیاری
Day 7: ایمان اور نیک اعمال کے درمیان تعلق
ایمان کا ذکر قرآن میں ہمیشہ نیک اعمال کے ساتھ آتا ہے۔
قرآن مجید میں 69 سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو ایمان اور صالح اعمال کے گہرے تعلق کو واضح کرتی ہیں۔ یہ باہمی ربط اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایمان اور نیک اعمال ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ مسلسل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسا کوئی ایمان نہیں جو ہمارے روزمرہ کے اعمال، انتخاب اور فیصلوں پر اثر نہ ڈالے۔ اور نہ ہی نیک اعمال کی کوئی حقیقی قدر ہے اگر وہ اس ایمان کی بنیاد کے بغیر ہوں جو انہیں سہارا دیتا اور درست سمت دکھاتا ہے۔
مثال کے طور پر، ہماری نماز ہمارے ایمان کا عملی اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں لفظ صلٰوۃ (جو ایک ظاہری عبادت ہے) کو بعض مقامات پر ایمان کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور اللہ ہرگز تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ انسانوں کے حق میں بہت ہی شفیق اور بہت ہی رحیم ہے۔"
(سورۃ البقرۃ 2:143)
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے نماز کا رخ (قبلہ) بیت المقدس سے مکہ مکرمہ کی طرف تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ اس پر بعض منافقین اور کافروں نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ جو صحابہؓ پہلے وفات پا چکے ہیں، ان کی نمازیں تو ضائع ہو گئیں کیونکہ وہ پرانے قبلے کی طرف رخ کر کے ادا کی گئی تھیں۔ اس کے جواب میں قرآن نے واضح کیا کہ ان کی نمازیں ہرگز ضائع نہیں ہوئیں۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ن یہ نہیں فرمایا کہ "تمہاری نماز ضائع نہیں ہوگی" بلکہ فرمایا: "تمہارا ایمان ضائع نہیں ہوگا"۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان اور نیک اعمال ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جب ہم اخلاص کے ساتھ ایک کو مضبوط کرتے ہیں تو دوسرا خود بخود بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اگر میں یہ جاننا چاہوں کہ میرے ایمان کی حالت کیا ہے، تو شاید اس کا ایک معیار یہ ہے کہ میں اپنے اعمال کا جائزہ لوں۔ کیا میرے اعمال میرے ایمان اور قرآن کے پیغام کے مطابق ہیں؟ کیا وہ اسلامی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ میرے ایمان کی علامت ہے اور اس بات کا ثبوت کہ ایمان میرے ضمیر میں اولیت رکھتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں، تو شاید یہی وقت ہے کہ ہم اپنے اعمال کو اپنے عقائد کے مطابق ڈھالیں اور عملی تبدیلی کی طرف قدم بڑھائیں۔ (سورۃ القصص 28:67)
"اگر میں یہ جاننا چاہوں کہ میرے ایمان کی حالت کیا ہے، تو شاید اس کا ایک معیار یہ ہے کہ میں اپنے اعمال کا جائزہ لوں۔" شیخ حماد فہیم
ماہِ شعبان ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں اور اپنے ایمان کو بہتر بنانے کی پختہ نیت کریں، تاکہ ہمارا یقین ہمارے اعمال میں بھی جھلکے
اس موضوع پر مزید پڑھنے کے لیے QuranReflect پر درج ذیل تدبر ملاحظه کریں:
https://quranreflect.com/posts/1768192357164994