Back to Learning Plan
اسکرین کی لت: جب اسکرین دل کو بے حس کر دے
Day 3: آنکھ، کان اور دل کی حفاظت
آیاتِ قرآنی
سبق اور تدبر
ہمارے اردگرد ہر وہ چیز جسے ہم سنتے، دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں، ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ آج کے دَور میں اسکرینیں بھی ہمارے ماحول کا ایک اہم جزو ہیں۔ یہ دو دروازے کھولتی ہیں: فائدہ مند علم کا بھی، مگر ساتھ ہی آزمائش، حسد، موازنہ، وقت کے ضیاع اور گناہ کا بھی۔ یاد رکھیں! انسان درست دروازے کا انتخاب تب ہی کرتا ہے جب وہ دیکھنے اور سننے جیسی نعمتوں کو امانت سمجھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں اپنی عبادت کے لیے بھیجا ہے، لہٰذا یہ نعمتیں بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہونی چاہییں۔
سورۃ الإسراء (17:36) میں اللہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سے ان نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا, کیا دیکھا؟ کیا سنا؟ اور دل میں کس چیز کو جگہ دی؟ اورسورۃ المنافقون (63:9) خبردار کرتی ہے کہ کوئی بھی چیز حتیٰ کہ نعمت بھی ہمیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے۔ آج سب سے عام غفلت کی وجہ ڈیجیٹل آلات ہیں: اسکرینیں جو تعلقات کو بے معنی، روح کو بے چین، اور ہر اہم معاملے میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔ اسکرینیں اُس وقت نفع بخش ہیں جب انہیں اعتدال سے استعمال کیا جائے، مگر ضرورت سے زیادہ انحصار ہماری صحت، سکون اور روحانیت چھین لیتا ہے اور ہمیں اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جو چیز تجھے نفع دے سکتی ہے، اُس کی کوشش کر۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث 4168)
اللہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ آنکھ، کان اور دل بہت بڑی نعمتیں ہیں، مگر انہی کے بارے میں سوال بھی ہوں گے۔ کیا ہم ہر اسکرول پر محتاط رہے؟ کیا دیکھتے اور سنتے رہے؟ ان سب کا ہمارے دلوں پر کیا اثر ہوا؟ کس مواد کو ہم نے اپنی روح کی غذا بنایا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہم کسی بھی گناہ کو قبولیت کی نظر سے تب دیکھنا شروع کرتے ہیں جب وہ ہماری روزمرہ زندگی کا مسلسل حصہ بن جائے۔ وہ فطرت جو کبھی پاک ہوتی تھی، گمراہ کن خیالات کی کثرت سے بگاڑ کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہٰذالامحدود اسکرولنگ ہمارے دور کی سب سے قابلِ قبول غفلتوں میں سے ایک ہے، اور شاید سب سے زیادہ تباہ کن بھی۔
سورۃ النور (24:30) میں اللہ تعالیٰ مومن مردوں (اور اگلی آیت میں مومن عورتوں) کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں, نہ صرف بے حیائی بلکہ ہر اُس چیز سےے دُور رکھنے کے لیے جو روح کو آلودہ کرتی ہے۔ ہر ٹرینڈنگ پوسٹ اور اسٹوری کو ہماری توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ نظروں کی حفاظت صرف گناہ سے نہیں بچاتی بلکہ دل کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ خود ہی سوچیں وہ دل جو لغوی خواہشات کا مسکن بن جائے، وہ اللہ کی یاد کا گھر کیسے بن سکتا ہے؟
اسکرین پر گزرتا ہر لمحہ ہماری روح کی نرمی کی وجہ ہے یا سختی کی، اس لیے ہمیں اس معاملے میں احسان سے کام لینا چاہیے۔ اسکرین کے استعمال میں احسان سے مراد شعوری طور پر بامقصد چیزوں کو دیکھنا، سننا اور اپنے دل کی حفاظت کرنا ہے، تاکہ موبائل اسکرین آپ کی روح کو مُردہ نہ کر دے۔ اپنی نعمتوں کو بہترین انداز میں استعمال کریں، اور خود سے سوال پوچھیں: کیا یہ اسکرین مجھے میرے خالق، نماز اور فرائض کی ادائیگی میں آسانی دے رہی ہے یا دشواری؟
حدیث
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اس وقت اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔"
(صحیح بخاری,حدیث 6490 مسلم,حدیث 2963)
یہ نصیحت آج کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس اسکرین جیسی سہولت موجود نہیں۔ لہٰذا ہمیں اس نعمت پر شکر ادا کرنا چاہیے اور اسے غلط سمت میں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
عملی سرگرمی
اپنی فیڈ فلٹر کریں: آج اپنے سوشل میڈیا یا ویڈیو فیڈ کا جائزہ لیں۔ جو مواد آپ کو غفلت، حسد یا گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اسے ان فالو یا میوٹ کریں۔
دعا
"اے اللہ! میری آنکھوں کو اُن چیزوں سے محفوظ رکھ جو تجھے ناپسند ہیں، میرے کانوں کو بے فائدہ آوازوں سے بچا، اور میرے دل کو ہر اُس چیز سے پاک رکھ جو مجھے تیری یاد سے غافل کرے۔"
تدبر کا سوال
میں روزانہ اپنی آنکھوں، کانوں اور دل میں اسکرینوں کے ذریعے کیا کچھ داخل کر رہا ہوں اور کیا یہ مجھے اس انسان کے قریب لا رہا ہے جسے اللہ دیکھنا چاہتا ہے، یا اس سے دور کر رہا ہے؟