Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Back to Learning Plan

کوهِ گراں: نفرت کے طوفان میں ایمان کی استقامت

1: ​استقامت: انبیاء کی زندگی سے سیکھے گئے سبق (مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا فن)
2: حکمتِ دعوت: بات پہنچانے کا نبوی طریقہ - دشمنی کا جواب سچائی اور نرم خوئی سے
3: صبرِ انبیاء: آزمائشوں میں صبر کا حوصلہ - درد کو منزل کا راستہ بنانا
4: حق گوئی: کڑے حالات میں سچ کی آواز (مخالف ماحول میں بھی سچائی پر قائم رہنا)
5: نبوی نور کی وراثت: پیغامِ حق کو آگے بڑھانا (نبی کریم ﷺ کے نورِ ہدایت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا)

Back to Learning Plan

کوهِ گراں: نفرت کے طوفان میں ایمان کی استقامت

Day 1: ​استقامت: انبیاء کی زندگی سے سیکھے گئے سبق (مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا فن)

قرآنی آیات

سبق اور تدبر

 اسلاموفوبیا، اگرچہ ایک جدید اصطلاح ہے، لیکن یہ ایک قدیم کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر نبی کو دشمنی، تمسخر اور بہتان تراشی کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھے، بلکہ عین اس لیے کہ ان کا پیغام باطل کے لیے خلل کا باعث تھا۔ قرآن مومنین کو اس حقیقت کے لیے تیار کرتا ہے: "تمہیں لازماً سننی پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں" (3:186)۔ اللہ تعالیٰ اپنی وحی میں (مومن کے) ٹھکرائے جانے کے دکھ کو اہمیت دیتا ہے، اسے برداشت کرنے والوں کو عزت بخشتا ہے، اور صبر کے ذریعے ان کے درجات کی بلندی کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ اس تکلیف کی قدر کرتا ہے، اسے عزت و وقار عطا فرماتا ہے، اور اسے (مومن کے لیے) بلندیِ درجات کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

​جب نبی کریم ﷺ نے کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر اپنی قوم کو حق کی طرف بلایا، تو آپ کا استقبال تالیوں سے نہیں بلکہ توہین سے کیا گیا۔ جب آپ طائف کی گلیوں سے گزرے، تو آپ کا استقبال تجسس سے نہیں بلکہ پتھروں سے کیا گیا۔ پھر بھی، ہر موقع پر آپ ﷺ نے تلخی کے بجائے خوبصورتی سے جواب دیا: "اے اللہ، میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں۔" (بخاری: 6929)

یہ اعلیٰ ترین درجے کی استقامت (Resilience) ہے: محض دکھ سہنا نہیں، بلکہ اسے اللہ پر اپنے توکل اور رحمت کو مزید گہرا کرنے کے لیے استعمال کرنا۔ آیت (3:195) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنہیں "میری خاطر ستایا گیا" ان سے مغفرت اور ابدی اجر کا وعدہ ہے۔ اللہ کی خاطر برداشت کی گئی ہر توہین ذلت کے طور پر نہیں، بلکہ اعزاز کے طور پر درج کی جاتی ہے۔

موجودہ دور میں اسلامو فوبیا (اسلام دشمنی) شک و شبہ، میل جول سے پرہیز، اور کام کی جگہ یا سکول میں امتیازی سلوک کی صورت میں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ آزمائشیں ہمارے لیے دعوتِ دین کا ایک تربیتی میدان بن سکتی ہیں، تاکہ ہم نبی کریم ﷺ جیسا صبر اور واضح گفتگو اپنا سکیں۔ ہر تکلیف دہ لفظ ایک موقع بن سکتا ہے کہ ہم اس کا جواب دانائی، عزتِ نفس اور پرسکون یقین کے ساتھ دیں۔

دعوتِ دین میں استقامت (Resilience) کا مطلب خاموشی یا ہتھیار ڈال دینا نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مطلب ردِعمل کی نفسیات سے بلند ہو کر صبر اور حکمت کے ساتھ عمل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی اصل طاقت اقتدار یا زور زبردستی میں نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے حلم اور بردباری میں تھی۔ آپ ﷺ کا دل حق پر چٹان کی طرح مضبوط تھا، پھر بھی لوگوں کے لیے نرم اور ہمدرد تھا۔

​یاد رکھیں: اللہ ان لوگوں کی تکلیف کو کبھی ضائع نہیں کرتا جو اس کے پیغام کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ صبر کا ہر لمحہ ہمیں جنت کے قریب کر دیتا۔ 

حدیث

"سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا انبیاء علیہم السلام کو کرنا پڑتا ہے، پھر ان لوگوں کو جو ان کے قریب (مرتبے والے) ہوں، پھر ان کو جو ان کے قریب ہوں۔ انسان کو اس کے دین کی مضبوطی کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔"

​(سنن ابن ماجہ: 4023)

عملی سرگرمی

آج، اگر آپ کو اپنے ایمان کے بارے میں کسی تعصب یا غلط فہمی کا سامنا ہو یا وہ یاد آئے، تو دفاعی ردِعمل دینے سے گریز کریں۔ اس کے بجائے، ایک گہرا سانس لیں اور خاموشی سے یہ دعا پڑھیں:

​"اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور (میدان جنگ میں) ہمارے قدموں کو جمادے اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں۔" (القرآن، 2:250)

پھر، اگر ممکن ہو تو، اسلام کے بارے میں ایک مختصر اور پرسکون وضاحت پیش کریں یا کسی ایسی خاموش نیکی کا مظاہرہ کریں جو اس (دین) کی اقدار کی عکاسی کرتی ہو۔

یہ کیسے مدد کرتا ہے:

  • ​تبدیلیِ صورتحال: یہ مشکل اور تناؤ والی صورتحال کو دعوتِ دین کے ایک بہترین موقع میں بدل دیتا ہے۔

  • ​اندرونی طاقت: یہ صبر اور ضبط کے ذریعے آپ کی اندرونی قوت اور حوصلے کو مضبوط کرتا ہے۔

  • ​نبویؐ کردار کی عکاسی: یہ اس نبویؐ اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے جو بحث جیتنے کے بجائے لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔

دعا

"‏ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الإِخْلاَصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ ‏"‏ ‏.‏

اے اللہ، اپنے غیب کے علم اور تمام مخلوق پر اپنی قدرت کے ذریعے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے، اور مجھے اس وقت موت دے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔ ​میں تجھ سے تنہائی اور محفل، دونوں میں تیرے خوف کا سوال کرتا ہوں، اور خوشی ہو یا غصہ، ہر حال میں سچی اور مخلص بات کہنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو، اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک (سچی خوشی اور سکون) مانگتا ہوں جو کبھی منقطع نہ ہو۔ ​میں تجھ سے تیری رضا (تقدیر) پر خوش رہنے کا، اور موت کے بعد پرسکون زندگی کا سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے تیرے کریم چہرے کے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملنے کے شوق کا سوال کرتا ہوں، بغیر کسی تکلیف دہ مشقت اور گمراہ کن آزمائش کے۔ ​اے اللہ، ہمیں ایمان کی خوبصورتی سے آراستہ کر دے، اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت پانے والا بنا دے۔

​(سنن نسائی: 1306)

تدبر کا سوال

جب آپ کو اپنے دین کی وجہ سے لوگوں کی تلخی یا غلط فہمیوں کا سامنا ہو، تو آپ اپنے اندر کیسا ردِعمل پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ اور آپ کا وہ جواب نبی کریم ﷺ کے  اسوہ حسنہ کی عکاسی کیسے کر سکتا ہے؟


Add Reflection

Stay Connected to the Quran ❤️

Short meaningful reminders to reset, reflect and stay connected to the Quran.

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links
Duas from the Quran
Quran Verse of the Day
Ayatul Kursi
Yaseen
Al Mulk
Ar-Rahman
Al Waqi'ah
Al Kahf
Al Muzzammil
SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved
Contribute