Back to Learning Plan
کوهِ گراں: نفرت کے طوفان میں ایمان کی استقامت
Day 4: حق گوئی: کڑے حالات میں سچ کی آواز (مخالف ماحول میں بھی سچائی پر قائم رہنا)
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
دعوتِ دین میں دیانتداری نبویؐ ورثے کی سب سے گہری اور نمایاں خوبیوں میں سے ایک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نہ صرف سچائی بیان کی، بلکہ آپ ﷺ خود سچائی کا زندہ نمونہ تھے۔ آپ ﷺ کی دعوت محض ایک پیغام نہیں تھی، بلکہ ایک اخلاقی وجود تھی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے بدترین دشمنوں نے بھی نبوت کے اقرار سے بہت پہلے آپ ﷺ کو الامین (امانت دار) کے لقب سے پکارا تھا۔
قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ "آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ" (16:125)۔ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ کیسے، کب اور کس سے بات کرنی ہے۔ اس کا مقصد بحث جیتنا نہیں بلکہ دلوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ ہر شخص کی سمجھ کے مطابق اس سے گفتگو فرماتے؛ آپ ﷺ عاجزی کرنے والوں کے ساتھ نرم، تکبر کرنے والوں کے ساتھ ڈٹ جانے والے، اور وہاں خاموش رہتے جہاں خاموشی لفظوں سے زیادہ سبق دیتی تھی۔
ایک ایسی دنیا میں جو اکثر اسلام کو غلط رنگ میں پیش کرتی ہے، مسلمانوں کی دعوت میں اس نبویؐ دیانتداری کی جھلک ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم دشمنی کا جواب دشمنی سے دینے سے انکار کریں، مبالغہ آرائی سے بچیں، اور سچائی، صبر اور خلوص کے ساتھ بات کریں۔ حقیقی دعوت کبھی نفرت سے نہیں بنتی؛ یہ نبویؐ رحمت کے نور اور سچائی کے استحکام سے پروان چڑھتی ہے۔
سورہ المائدہ کی آیت (5:8) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دباؤ کے باوجود ہمیں انصاف پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ غصے کے تحت کی جانے والی تبلیغ توجہ تو حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس میں برکت ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ وہ دعوت جس کی جڑیں اخلاقیات میں ہوں، وہی دلوں کو بدلتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ان قبائلی سرداروں کے سامنے کھڑے ہوئے جو آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی بھی انصاف یا وقار کا دامن نہیں چھوڑا۔ بحث کے دوران بھی آپ ﷺ پرسکون، حقیقت پسند اور نرم مزاج رہتے تھے۔
آج کے مسلمان پیشہ ور افراد اور نوجوان اسی نبوی مشن کے علمبردار ہیں۔ سوشل میڈیا ہو، کلاس روم ہو یا کام کی جگہ، ہماری دیانتداری ہی ہمارا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔ جب ہم علم اور وقار کے ساتھ، تلخی یا تکبر کے بغیر اسلام کا دفاع کرتے ہیں، تو ہم اس کی اصل خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی دعوت انقلابی اس لیے نہیں تھی کہ وہ پُرشور تھی، بلکہ اس لیے تھی کہ وہ پُرنور تھی۔
حدیث
"طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔"
(صحیح بخاری: 6114، صحیح مسلم: 2609)
عملی سرگرمی
آج اگر آپ کا سامنا کسی ایسی پوسٹ، کمنٹ یا گفتگو سے ہو جو اسلام کو غلط رنگ میں پیش کر رہی ہو، تو جواب دینے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے رک جائیں۔
اپنے آپ سے پوچھیں: "نبی کریم ﷺ اس کا جواب کیسے دیتے؟"
پھر (اگر ضرورت ہو تو) پورے سکون، درست معلومات اور عاجزی کے ساتھ جواب دیں، یا پھر خاموشی اختیار کر لیں اگر وہ وقار کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ بہتر ہو۔
یہ کیسے مدد کرتا ہے:
سوچ سمجھ کر بولنا: یہ آپ کو بولنے سے پہلے خاموشی، تحمل اور گہرائی سے سوچنے کا عادی بناتا ہے۔
تبلیغ میں نبویؐ نرمی: یہ آپ کے اندازِ بیان میں وہی شفقت اور نرمی پیدا کرتا ہے جو نبی کریم ﷺ کا خاصہ تھی۔
نیت کی حفاظت: یہ آپ کے دل کی حفاظت کرتا ہے تاکہ آپ کا ردِعمل انا (Ego) کے بجائے خلوص پر مبنی ہو۔
دعا
اللَّهُمَّ اسْتَعْمِلْنِي فِي نُصْرَةِ دِينِكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْعَدْلِ
"اے اللہ! مجھے اپنے دین کی نصرت کے لیے حکمت اور عدل کے ساتھ 'منتخب' فرما۔"
تدبر کا سوال
اسلام کی دعوت پیش کرتے وقت، آپ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ آپ کا لہجہ، الفاظ اور نیت نبی کریم ﷺ کی دیانتداری اور رحمت کی عکاسی کریں؟