Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Back to Learning Plan

سورۃ الملک — نجات کا پیغام اور زندگی بدل دینے والے اسباق

1: بادشاہوں کا بادشاہ
2: اس کی تخلیق کی کامل کاریگری
3: وہ وارننگ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
4: وہ جو تمہیں سب سے بہتر جانتا ہے
5: تمہارے قدموں کے نیچے کی زمین
6: کھنڈرات میں لکھے اسباق
7: اس سے پہلے کہ پانی ختم ہو جائے

Back to Learning Plan

سورۃ الملک — نجات کا پیغام اور زندگی بدل دینے والے اسباق

Day 7: اس سے پہلے کہ پانی ختم ہو جائے

موضوع: آخری پکار پلٹ آؤ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے

قرآنی آیات

سبق اور تدبر

ان آخری آیات میں اللہ کافروں کے عام رویے کو بیان کرتا ہے: آخرت کی وارننگ کا مذاق اُڑانا۔ وہ کہتے ہیں: "یہ کب ہوگا؟" گویا اللہ کو چیلنج کر رہے ہوں۔ یہ سوال تجسس سے نہیں بلکہ تکبر اور انکار سے پیدا ہوتا ہے۔

اللہ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دیتا ہے کہ سادہ جواب دیں: اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہی ایک بنیادی سچائی ہے۔ کچھ علم ہم سے چھپا کر رکھا گیا ہے ہماری اپنی بھلائی کے لئے۔ اگر ہمیں موت یا قیامت کے عین وقت کا علم ہوتا تو ہمارے اعمال مصنوعی یا آخری وقت کے انتظار پر مبنی ہو جاتے۔ یہی بے یقینی اللہ کی رحمت ہے تاکہ ہم ہر دن سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ جیئیں۔

سورۃ کا اختتام ایک تیز سوال پر ہوتا ہے: اگر تمہارا پانی زمین میں گہرائی تک کھو جائے تو کون ہے جو اسے واپس بہا دے؟ پانی زندگی ہے۔ ہم روز پیتے ہیں مگر کبھی سوچتے نہیں کہ یہ صرف اللہ کے حکم سے ہمارے پاس ہے۔ پیغام بالکل صاف ہے: اگر ہم ایک گھونٹ پانی کے مالک نہیں تو اللہ کو نظر انداز کرنے کی جرات کیسے کر سکتے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں سورۃ الملک ہمیں دو حقیقتوں کے بیچ چھوڑتی ہے: اللہ کا وعدہ یقینی ہے، اور ہم اس پر کہیں زیادہ محتاج ہیں جتنا ہم ماننا چاہتے ہیں۔ اس احساس کے بعد عقل مندی یہی ہے کہ دیر ہونے سے پہلے خلوص دل سے اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔

روحانی سبق: اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ تم کس قدر اللہ پر منحصر ہو تو سوچو: صرف ایک نعمت روک دینا، جیسے پانی، زندگی کو روک سکتا ہے۔ اللہ پر انحصار کمزوری نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کو ماننا ہی حکمت کی ابتدا ہے۔

حدیث

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنے مال کو تنگدستی سے پہلے، اپنے خالی وقت کو مشغولی سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔”
(شعب الایمان للبیہقی، حدیث 10250)

عملی سرگرمی

آج جب پانی پیو تو پہلے گھونٹ سے پہلے چند لمحے رک کر دل سے کہو: الحمد للہ۔ اسے یاد دہانی بناؤ کہ ہر قطرہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور وہی رب جو آج تمہاری پیاس بجھاتا ہے، اگر تم اس کی طرف پلٹو گے تو کل آخرت میں تمہاری روح کو بھی اپنی رحمت سے سیراب کرے گا۔

یہ کیسے مدد کرتی ہے

  • روزمرہ کی نعمتوں میں شعور اور شکر پیدا کرتا ہے
  • تکبر کو شکرگزاری میں بدل دیتا ہے
  • دل کو ہر وقت اللہ کی موجودگی سے بیدار رکھتا ہے

دعا

كانَ رسولُ اللَّهِ ﷺ يدعو:
اللَّهُمَّ أحسِن عاقبتَنا في الأمورِ كلِّها وأجِرنا مِن خِزيِ الدُّنيا وعذابِ الآخرةِ

ترجمہ: اے اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔
(مسند احمد، حدیث 17628)

تدبر کا سوال

اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ کسی بھی لمحے پورا ہو سکتا ہے، تو آج آپ اپنی زندگی میں کیا تبدیلی کریں گے؟

اختتامیہ اور آئندہ کے لئے رہنمائی

سورۃ الملک کا آغاز اللہ کی کامل بادشاہت کے اعلان سے ہوتا ہے اور اختتام ایک سادہ مگر جھنجھوڑ دینے والے سوال پر ہوتا ہے: پانی کے بارے میں  یہ یاد دہانی کہ اللہ کی بے عیب تخلیق کے نقشے سے لے کر آخرت کی بڑی حقیقتوں تک، اور ان چھوٹی بوندوں تک جو ہم پیتے ہیں، ہر چیز کا سنبھالنے والا اور کنٹرول رکھنے والا صرف اللہ ہی ہے۔

ان 7 دنوں کے دوران آپ کو یاد دلایا گیا کہ:

  • زندگی ایک بامقصد آزمائش ہے، اور اللہ کے نزدیک اخلاص دکھاوے سے بہتر ہے۔
  • کائنات میں کوئی نقص نہیں کیونکہ اس کا خالق سب سے بلند اور کامل ہے۔
  • جہنم حقیقت ہے، لیکن اللہ کی رحمت بھی حقیقت ہے، اور اس کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔
  • اللہ آپ کی چھپی نیتوں کو بھی جانتا ہے اور آپ کے چھپے اعمال پر بھی اجر دیتا ہے۔
  • آپ کی ہر نعمت اللہ کے حکم سے قائم ہے۔
  • پچھلی قوموں کی تاریخ محض پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ سبق لینے کے لئے ہے۔
  • آپ ہر لمحہ اللہ کے محتاج ہیں، اور یہی محتاجی عاجزی اور امید دونوں کا سبب ہے۔

لمبے عرصے کے لئے مستقل مزاجی کے نکات:

  • قرآن سے روزانہ جڑے رہیں، چاہے چند منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ سورۃ الملک کو بار بار دہرائیں۔ نبی ﷺ اسے روز رات کو پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی 2892)
  • نیک صحبت اختیار کریں جو آپ کو اللہ کی یاد دلائے اور آپ کے دل کو زندہ رکھے۔
  • اخلاص کی حفاظت کریں: ایسے نیک عمل کریں جو صرف آپ اور اللہ کے درمیان ہوں۔
  • اپنی نیت کو بار بار پرکھا کریں؛ معمولی عمل بھی درست نیت سے عبادت بن جاتے ہیں۔
  • سورۃ الملک کے ساتھ گہری مشغولیت پیدا کریں۔ یہ سورت سوالات سے بھری ہوئی ہے۔

اس سورت کی خاص بات یہ ہے کہ صرف تیس آیات پر مشتمل ہونے کے باوجود اس میں دس سے زیادہ سوالات ہیں، اور یہ سب عقیدے کے اہم پہلوؤں سے متعلق ہیں: اللہ کی تخلیق، اس کا علم، اس کی قدرت، رزق میں حفاظت، تباہی اور نجات۔

اللہ فرماتا ہے: “کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔” – کیا واقعی تم اللہ کے عذاب سے محفوظ ہو؟

اللہ فرماتا ہے: “بھلا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے رحمن کے مقابلہ میں ؟ نہیں ہیں یہ کافر مگر دھوکے میں مبتلا ہیں۔” – تمہیں مدد دینے والا کون ہے؟

اللہ فرماتا ہے: “پھر بھلا کون ہے وہ جو تمہیں رزق دے سکے اگر اللہ اپنے رزق کو روک لے ؟ بلکہ یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق سے گریز میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔” – تمہارا رازق کون ہے؟ اگر رزق روک لیا جائے تو کیا کرو گے؟

اللہ فرماتا ہے: “آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف نتھرا ہواپانی ؟” – ایک گھونٹ پانی تک پر تمہارا اختیار نہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے یہ سوالات سونے سے پہلے آپ کے عقیدے کا ایک جامع جائزہ بن جاتے ہیں۔ دن کے وقت شیطان آپ کو شبہات اور جھوٹے عقائد میں الجھا دیتا ہے۔ آپ کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر کوئی مشکل پیش آئی تو فلاں شخص آپ کو بچا لے گا، یا فلاں آپ کا رزق فراہم کرے گا، یا آپ کی حاجت پوری کرے گا۔ لیکن پھر نیند سے پہلے یہ سورہ آپ کے سامنے آتی ہے — عقیدے کے ایک جائزے کے طور پر — تاکہ آپ اسی فطرت (فِطرہ) پر سوئیں جس پر آپ کو پیدا کیا گیا تھا۔

یہ سوالات، جو یہ سورہ آپ کے سامنے پیش کرتی ہے جب آپ بستر پر اکیلے لیٹے ہوتے ہیں، آپ کو پکارتے ہیں کہ آپ اپنی بینائی سے دیکھیں، اپنی سماعت سے سنیں، اور اپنی عقل سے غور و فکر کریں:

*“پھر لوٹائو نگاہ کو بار بار (کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے) پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔”
“کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟”
“کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ بہت باریک بین ہے ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔”
“کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں پرندوں کو اپنے اوپر (اڑتے ہوئے)”
“تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟”

یوں یہ سورہ نیند سے پہلے آپ کے تمام حواس اور صلاحیتوں کو متحرک کر دیتی ہے، تاکہ آپ اللہ اور غیب پر اپنے ایمان کا از سرِ نو جائزہ لے سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو سونے سے پہلے سورۃ السجدہ (32) اور سورۃ الملک (67) پڑھنے کے بغیر نہیں سوتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے:
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ ‏: ‏ ‏(‏الم * تَنْزِيلُ ‏)‏ وَ ‏(‏ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک کی تلاوت ضرور کیا کرتے تھے۔
(جامع ترمذی 2892؛ الأدب المفرد 1209؛ سنن الدارمی 3316)

سب سے بڑھ کر یاد رکھیں:
آپ کا ہر خلوص پر مبنی قدم، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں دیکھا جاتا ہے اور محبوب ہے۔

سب سے بڑھ کر یاد رکھیں:

آپ کا ہر خلوص پر مبنی قدم، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں دیکھا جاتا ہے اور محبوب ہے۔

اہم اصطلاحات کی فہرست

الملک: بادشاہی، سلطنت۔ سورۃ الملک کا عنوان، جو اللہ کی کائنات پر مکمل ملکیت اور اختیار کو ظاہر کرتا ہے۔

آمین: اے اللہ! اس دعا کو قبول فرما۔

توکل: اللہ پر بھروسہ اور انحصار کرنا، ساتھ ہی ضروری اسباب اختیار کرنا۔

اخلاص: نیت کی پاکیزگی۔ اعمال صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا، لوگوں کی تعریف یا شہرت کے لئے نہیں۔

ریا: دکھاوا۔ عبادت یا نیک عمل اس نیت سے کرنا کہ لوگ دیکھیں اور تعریف کریں۔

العزیز: زبردست، غالب۔ وہ ذات جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔

الغفور: بہت زیادہ بخشنے والا۔ وہ جو بار بار گناہوں کو معاف کرتا ہے۔

الخالق: خالق۔ وہ جو ہر چیز کو وجود میں لاتا ہے۔

اللطیف: باریک بین۔ وہ جو چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کو جانتا ہے اور نفع ایسے طریقے سے دیتا ہے جو انسان کو نظر نہ آئے۔

الحکیم: حکمت والا۔ وہ جس کے تمام کام کامل حکمت پر مبنی ہیں۔

الخبیر: پوری طرح باخبر۔ ظاہر و باطن سب سے مکمل طور پر واقف۔

صبر: برداشت، ثابت قدمی۔ آزمائشوں میں ڈٹے رہنا۔

شکر: شکرگزاری۔ اللہ کی نعمتوں کو ماننا اور اس کا شکر ادا کرنا۔

دنیا: یہ دنیاوی زندگی، جو عارضی اور فانی ہے۔

آخرت: موت کے بعد کی ابدی زندگی۔

دعا: اللہ سے مانگنا، پکارنا، دعا کرنا۔

ذکر: اللہ کا ذکر کرنا، چاہے زبان سے یا دل میں۔

سجود: سجدہ، نماز کی حالت جس میں پیشانی زمین پر رکھی جاتی ہے۔

جنت: ہمیشہ کی نعمت اور مومنین کا بدلہ۔

جہنم: کافروں اور نافرمانوں کی سزا۔

مالک الملک: بادشاہوں کا بادشاہ۔ اللہ کا ایک نام، جو اس کی مکمل بادشاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

یا حی یا قیوم: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے سب کو قائم رکھنے والے! ایک طاقتور دعا جس میں اللہ کی ابدی زندگی اور اس کی قائم رکھنے والی قدرت کو پکارا جاتا ہے۔

Add Reflection

Stay Connected to the Quran ❤️

Short meaningful reminders to reset, reflect and stay connected to the Quran.

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links
Duas from the Quran
Quran Verse of the Day
Ayatul Kursi
Yaseen
Al Mulk
Ar-Rahman
Al Waqi'ah
Al Kahf
Al Muzzammil
SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved
Contribute