Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Back to Learning Plan

توکل: اضطراب کا عالم، رب پر یقینِ محکم

1: وہ بوجھ جو ہمارے اٹھانے کے لیے نہیں تھا
2: جب سمندر پھٹتا ہے
3: رزق لکھا جا چکا ہے
4: دستبردار ہونے کی قوت: (کسی چیز یا جذبے سے دستبردار ہونا)
5: ​ہر دن توکل کے ساتھ جینا

Back to Learning Plan

توکل: اضطراب کا عالم، رب پر یقینِ محکم

Day 2: جب سمندر پھٹتا ہے

قرآنی آیات

سبق اور تدبر

 تاریخ کے چند ہی لمحات توکل کی اتنی بہترین عکاسی کرتے ہیں جتنی بحیرہ احمر (سمندر) کے کنارے والا منظر کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک لشکر اور سمندر کے درمیان گھرے ہوئے کھڑے تھے۔ ان کے پیچھے فرعون کا غیظ و غضب تھا اور سامنے ایک ناممکن نظر آنے والا سمندر۔ ان کے آس پاس موجود لوگ گھبرا گئے، انہیں یقین تھا کہ سب ختم ہو چکا ہے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام پُرسکون، ثابت قدم اور بھروسے سے لبریز رہے، اور فرمایا: "ہرگز نہیں ! یقیناً میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے راستہ پیدا کر دے گا۔" (القرآن 26:62)

اس ایک جملے نے سب کچھ بدل دیا۔ موسیٰ علیہ السلام ایمان کے ساتھ آگے بڑھے اور سلامتی کی کوئی علامت دیکھے بغیر سمندر پر (عصا) مارا۔ یہی توکل کا جوہر ہے: نتیجہ سامنے آنے سے پہلے بھروسے کے ساتھ قدم بڑھانا۔

​اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو سمندر پر (عصا) مارنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ اس عمل کے بغیر بھی اسے چیر سکتا تھا۔ کیوں؟ شاید اس لیے تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ مدد اطاعت اور بھروسے کے بعد آتی ہے، پہلے نہیں۔ توکل کا مطلب ہے آگے بڑھتے رہنا، تب بھی جب راستہ ناممکن معلوم ہو رہا ہو۔
ہم اپنی زندگیوں میں اپنے اپنے "بحیرہ احمر" (ناممکن رکاوٹوں) کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال جو ناممکن معلوم ہوتی ہے: نوکری کا چھوٹ جانا، کسی بیماری کی تشخیص، ٹوٹا ہوا رشتہ، یا کوئی غالب آ جانے والا خوف۔ اور خوف کے ان لمحات میں، اللہ ہمیں یاد دلاتا ہے، جیسا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو یاد دلایا، کہ نجات تب شروع ہوتی ہے جب ہم اپنا بھروسہ اس پر قائم کرتے ہیں اور اس کے حکم کے ساتھ آگے قدم بڑھاتے ہیں۔

​حقیقی توکل یہ نہیں ہے کہ اللہ زندگی کو آسان بنا دے گا؛ بلکہ یہ یقین رکھنا ہے کہ وہ مشکل حالات میں آپ کی رہنمائی فرمائے گا۔ سمندر شاید فوری طور پر نہ پھٹے، لیکن جب آپ اپنی نظریں لہروں کے بجائے اللہ پر رکھتے ہیں، تو آپ کو ہمیشہ راستہ مل جاتا ہے۔

​موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کا وقت کامل ہے، تب بھی جب ہمارا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ آخری لمحے تک انتظار کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ہمارے صبر کا امتحان لے، بلکہ اس لیے کہ وہ ہمارے ایمان کو مزید مضبوط کر دے۔

حاصلِ کلام : سمندر ان کے لیے نہیں پھٹتا جو ساکت کھڑے رہتے ہیں؛ بلکہ یہ ان کے لیے پھٹتا ہے جو اللہ پر بھروسے کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہیں۔

حدیث 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جس کی نیت دنیا (کا حصول) ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اسے دنیا میں سے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے لکھا جا چکا ہو۔ اور جس کی نیت آخرت ہو، اللہ اس کے معاملات کو یکجا (درست) کر دیتا ہے، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر (خود بخود) آتی ہے۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4105)

یہ حدیث ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنے اور اپنی توجہ اس کی مدد اور نصرت حاصل کرنے پر مرکوز کرنے کی یاد دہانی دلاتی ہے، اس مکمل یقین کے ساتھ کہ رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی دنیاوی فکروں اور آخرت کی تڑپ کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ ایک سخت انتباہ بھی ہے کہ جب ہماری توجہ محض مادی دنیا پر ہوتی ہے، تو ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حاصل وہی ہوتا ہے جو پہلے سے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی توجہ آخرت پر رکھیں اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھیں کہ وہ یہاں، اس وقت اور انجام کار آخرت میں بھی ہمارا خیال رکھے گا۔

عملی سرگرمی

عمل: اپنی زندگی کے کسی ایسے شعبے کی نشاندہی کریں جہاں خوف نے آپ کو ہچکچاہٹ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ آج اس حوالے سے ایک چھوٹا اور ٹھوس عملی قدم اٹھائیں، اور پھر اس کا نتیجہ مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دیں۔ کہیں: "میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔"

یہ کیوں فائدہ مند ہے:

  • ​یہ توجہ کو خوف سے ہٹا کر ایمان پر مبنی عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔

  • ​یہ روحانی ہمت اور استقامت کو مضبوط کرتا ہے۔

  • ​یہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ بھروسہ (توکل) حرکت سے بنتا ہے، جمود سے نہیں۔

دعا

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
​"اے اللہ! مجھے اپنی حلال کردہ چیزوں کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کفایت فرما (یعنی مجھے حلال رزق دے کر حرام سے بچا لے) اور اپنے فضل کے ساتھ مجھے اپنے سوا ہر ایک سے بے نیاز کر دے۔"

(حصن المسلم، نمبر: 136)

تدبر کا سوال

آپ اس وقت کس "بحیرہ احمر" (بظاہر ناممکن رکاوٹ) کے سامنے کھڑے ہیں؟ اگر آپ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ اللہ کی مدد آپ کے اگلے قدم کے بالکل پار آپ کی منتظر ہے، تو یہ کیسا منظر ہوگا؟


Add Reflection

Stay Connected to the Quran ❤️

Short meaningful reminders to reset, reflect and stay connected to the Quran.

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links
Duas from the Quran
Quran Verse of the Day
Ayatul Kursi
Yaseen
Al Mulk
Ar-Rahman
Al Waqi'ah
Al Kahf
Al Muzzammil
SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved
Contribute