Back to Learning Plan
سورہ یٰسین: ایمان، رحمت اور احتساب کے ابدی اسباق
Day 6: بیداریِِِ عظیم (یا حقیقی بیداری)
قرانی آیات
سبق اور تدبر
سورہ یٰسین اب ہمیں اس دن کی طرف لے جاتی ہے جب تمام پوشیدہ حقائق آشکار ہو جائیں گے۔ صور کی ایک پھونک، اور قبروں کی طویل خاموشی ٹوٹ جائے گی۔ لوگ حیرت اور پریشانی میں باہر نکلیں گے: ”ہائے ہماری شامت ! ہمیں کس نے اٹھا دیا ہماری قبروں سے ؟“ جس موت کو وہ انجام سمجھ کر سو گئے تھے، معلوم ہوگا کہ وہ تو اصل بیداری سے پہلے کا محض ایک وقفہ تھا۔
انہیں جو جواب ملے گا وہ رعب اور شفقت دونوں کا مجموعہ ہے: ” یہ تو وہی (دن) ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔“ غور کریں: اس لرزہ خیز لمحے میں بھی اللہ کو 'الرحمٰن' (نہایت رحم کرنے والا) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ کوئی سختی نہیں بلکہ رحمت تھی، تاکہ انسان کو خبردار کیا جائے کہ زندگی بے مقصد نہیں ہے اور عدل و انصاف کا وقت آنے والا ہے۔
ہمیں بتایا گیا ہے: ”پس آج کے دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلے میں نہیں دیا جائے گا مگر وہی کچھ جو تم عمل کرتے رہے تھے۔“ کچھ بھی ضائع نہیں ہوگا—نہ صبر کا کوئی خاموش لمحہ، نہ اللہ کی خاطر بہایا گیا کوئی پوشیدہ آنسو، اور نہ وہ چھوٹی سی نیکی جسے کسی نے نہ دیکھا ہو۔ ساتھ ہی، کسی ظلم، تمسخر یا دھوکے کو ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ منصفِ حقیقی مکمل عادل اور ہر بات سے باخبر ہے۔
پھر قرآن کا ایک نہایت فکر انگیز منظر سامنے آتا ہے: ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔“ وہی اعضاء جو کبھی حکم ماننے یا نافرمانی کرنے میں استعمال ہوئے تھے، اب گواہ بن جائیں گے۔ وہ زبان جو بحثیں کرتی اور بہانے تراشتی تھی، خاموش کر دی جائے گی۔ یہ وہ دن ہے جب الفاظ نہیں، اعمال بولیں گے۔
لیکن منکرین کے اس سنگین تذکرے کے دوران، سورہ یٰسین فوراً اہل ایمان کو تسلی دیتی ہے: یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے۔وہ اور ان کی بیویاں سائے میں تختوں کے اوپر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہ سنیں گے: ”سلام ہے، ربِ رحیم کی طرف سے فرمایا ہوا (لفظ)۔“ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ خود سلامتی کے ساتھ آپ کا استقبال کر رہا ہو۔ یہ صرف سنائی دینے والے الفاظ نہیں ہوں گے، بلکہ ایک ایسا سکون ہوگا جو آپ کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
حاصلِ کلام: قیامت کو یاد کرنے کا مقصد آپ کو خوف سے مفلوج کرنا نہیں ہے، بلکہ آپ کو ایک با مقصد زندگی گزارنے کے لیے بیدار کرنا ہے؛ تاکہ آپ توبہ کے ذریعے اپنے نامہ اعمال کو پاک کریں، نیکیوں سے اسے سنواریں، اور اس دن کی تڑپ پیدا کریں جب آپ اس ذات سے ملیں گے جو ہمیشہ آپ کا خیال رکھتی آئی ہے۔
احادیث
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا: ”عقل مند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز (بے وقوف) وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے (بغیر عمل کے) امیدیں وابستہ رکھے۔“ (2459 :سنن ترمذی)
اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا: ”جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔“ (صحیح بخاری6507، صحیح مسلم: 2683)
عملی سرگرمی
عمل: آج پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کریں۔ تصور کریں کہ آپ اللہ کے حضور کھڑے ہیں، آپ کا نامہ اعمال آپ کے دائیں ہاتھ میں ہے، اور آپ اسے اپنے حق میں ”سلام“ فرماتے ہوئے سن رہے ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں: ”اگر آج میری واپسی (قیامت) کا دن ہوتا، تو میں کس نیک عمل کی کمی محسوس کرتا؟“ پھر کسی ایک ٹھوس عمل کا انتخاب کریں (خواہ وہ کوئی نفل نماز ہو، صدقہ، کسی سے معذرت، یا خدمتِ خلق کا کوئی کام) اور اس ملاقات کی تیاری کے طور پر اسے آج ہی سر انجام دیں۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ آخرت پر یقین کو محض ایک نظریے کے بجائے ایک حقیقی تحریک (Motivator) میں بدل دیتا ہے۔
یہ سخت خود تنقیدی کے بجائے نرمی اور تسلسل کے ساتھ خود احتسابی (محاسبہ) کی ترغیب دیتا ہے۔
یہ آپ کو اس طرح جینے میں مدد دیتا ہے کہ اللہ سے ملاقات آپ کے لیے محض ایک خوف نہیں بلکہ ایک عظیم امید بن جائے۔
دعا
اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا
“اے اللہ! میرا محاسبہ (حساب) آسان فرما دے۔” (24261 :مسند احمد)
تدبر کا سوال
اگر آج آپ کی زبان پر مہر لگا دی جائے اور آپ کے ہاتھ پاؤں سے یہ گواہی مانگی جائے کہ آپ نے انہیں کیسے استعمال کیا، تو وہ کیا کہانی سنائیں گے؟ اور آپ آج کون سی چھوٹی سی تبدیلی لا سکتے ہیں تاکہ قیامت کے دن ان کی گواہی ندامت کے بجائے خوشی کا ذریعہ بن جائے؟