Back to Learning Plan
سورہ یٰسین: ایمان، رحمت اور احتساب کے ابدی اسباق
Day 3: ایک باہمت مومن
قرانی آیات
سبق اور تدبر
رسولوں کے صبر و استقامت کے بعد، سورہ یٰسین ایک نئے ہیرو کا تعارف کرواتی ہے جو نہ کوئی نبی تھا، نہ عالم، بلکہ محض ”ایک آدمی“ تھا۔ وہ شہر کے دور دراز کونے سے دوڑتا ہوا آتا ہے۔ فاصلہ اسے روک نہیں پاتا اور خوف اس کے قدموں کو سست نہیں کرتا۔ اس کے دل نے سچائی کو پہچان لیا تھا، اور اس کے قدم اس کی حمایت کے لیے بے چین تھے۔
وہ پکار اٹھتا ہے: ”اے میری قوم کے لوگو ! تم ان رسولوں ؑکی پیروی کرو۔“ اس کی دعوت میں تین نمایاں خوبیاں تھیں: محبت (”اے میری قوم کے لوگوں“)، وضاحت (”تم ان رسولوں کی پیروی کرو“) اور اخلاص (”جو تم سے کسی اجرت کے طالب نہیں ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔“)۔ وہ اپنا دفاع نہیں کر رہا تھا بلکہ پیغام کا دفاع کر رہا تھا، اور اس کی واحد تڑپ ان کی نجات تھی۔
اکثر مفسرین کے مطابق، اس شخص کو اس کے ایمان کی وجہ سے شہید کر دیا گیا تھا۔ لیکن قرآن اس کی موت کے کرب پر نہیں رکتا، بلکہ ہمیں فوراً اس کے اعزاز کی طرف لے جاتا ہے: ”کہا گیا، ’داخل ہو جاؤ جنت میں‘۔“ گویا مخالفانہ گلیوں سے ابدی امن تک کا یہ سفر پلک جھپکتے میں طے ہو گیا۔ جنت میں داخل ہوتے ہی اس کی پہلی خواہش حیران کن تھی: ”کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا...“ تکلیف اور انکار کے باوجود اس کے دل میں ہمدردی تھی، تلخی نہیں۔
ایک مخالفانہ ماحول میں ایمان کے ساتھ جینے کا یہی مطلب ہے: صرف حق پر ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ مخلص، بہادر اور رحمدل ہونا بھی ضروری ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ”رسولوں کی پیروی کرو“ کہنے پر جان کا خطرہ نہیں ہوتا، پھر بھی ہم محض کسی شرمندگی، ناپسندیدگی یا مذاق کے ڈر سے حق بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
سورہ یٰسین کا یہ بہادر مومن ہمیں یاد دلاتا ہے: اللہ یہ نہیں دیکھتا کہ آپ کتنے مشہور ہیں، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ آپ کتنے مخلص ہیں۔ ایک گمنام شخص، ایک بھولی بسری بستی میں، وحی کے دفاع میں ایک جرات مندانہ اور ہمدردانہ موقف کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔
حاصلِ کلام: حقیقی بہادری شور مچانے کا نام نہیں ہے؛ بلکہ یہ رحمت کے ساتھ حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے، چاہے اس کی قیمت آپ کا آرام ہو یا لوگوں کی ناپسندیدگی۔
حدیث
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا، وہ شہید ہے۔“ (سنن ابی داؤد: 4772)
عملی سرگرمی
عمل: کسی ایسی حالیہ صورتحال کو یاد کریں جہاں آپ نے کسی حق بات کو محض خوف یا ہچکچاہٹ کی وجہ سے نہیں کہا تھا۔ آج خاموشی سے یہ ارادہ کریں: ”اے اللہ! اگلی بار مجھے اس مومن (مردِ مومن) جیسی ہمت عطا فرما۔“
اگر آج کوئی ایسا موقع ملے چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، جہاں کسی کے ایمان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا کسی غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہو، تو پیچھے ہٹنے کے بجائے ایک قدم آگے بڑھیں اور نرمی سے حق کی حمایت کریں۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ آپ کے دل کو لوگوں کے ردعمل کے بجائے اللہ کی رضا کی قدر کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
یہ آپ کے اندر ایسی اخلاقی جرات پیدا کرتا ہے جس کی بنیاد انا پر نہیں بلکہ اخلاص پر ہو۔
یہ آپ کو ان لوگوں کے لیے بھی دل میں خیر خواہی اور رحمت رکھنے میں مدد دیتا ہے جو پیغام کی مخالفت کرتے ہیں۔
دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ
”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے تمام معاملات میں ثابت قدمی اور ہدایت کی راہ پر قائم رہنے پکے ارادے کا سوال کرتا ہوں۔“ (سنن نسائی: 1304)
تدبر کا سوال
آپ کے خیال میں وہ کون سی باطنی صفت تھی جس نے اس مومن کو حق کی خاطر خطرے کی طرف دوڑنے پر آمادہ کیا، اور آپ اپنی زندگی میں اسی اخلاص اور ہمت کو کیسے پروان چڑھا سکتے ہیں؟