Back to Learning Plan
دلوں کی کشادگی: سورۃ الفاتحہ سے اسباق
Day 2: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں
قرآنی آیت
سبق اور تدبر
اللہ کے نام اور اس کی رحمت سے آغاز سکھانے کے بعد، اللہ ہماری زبان کو حمد کی طرف موڑتا ہے: "الحمد للہ ربّ العالمین"، کل شکر اور کل ثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے۔ غور کیجیے: مانگنے سے پہلے ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم اُن بے شمار نعمتوں کو پہچانیں جو اللہ نے پہلے ہی ہمارے اردگرد رکھ دی ہیں۔
الحمدللہ صرف "شکر" نہیں ہے۔ یہ شکر اور تعریف کا مجموعہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: "اے اللہ! میں تیری نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں، اور میں تیری تعریف کرتا ہوں کیونکہ تو اپنی ذات میں تعریف کے لائق ہے، چاہے میں تیرے ہر فیصلے کی حکمت کو سمجھوں یا نہ سمجھوں۔" جب حکمت چھپی ہو تب بھی اس کی کامل ذات میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔
پھر آتا ہے ربّ العالمین: "تمام جہانوں کا رب۔" رب وہ ہے جو پیدا کرتا ہے، سنبھالتا ہے، پرورش کرتا ہے، حفاظت کرتا ہے اور آہستہ آہستہ کامل بناتا ہے۔ وہ ہر قوم، ہر زمانے اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ انسانوں اور جنات کے جہان، فرشتوں اور جانوروں کے جہان، ظاہر اور پوشیدہ دنیا، حتیٰ کہ دل کے ہر خیال اور ہر چھپے احساس کا بھی وہی رب ہے۔
حقیقی طور پر الحمدللہ کہنا اس نظر کو بدل دینا ہے جس سے آپ حقیقت کو دیکھتے ہیں۔ جو چیزیں نہیں ہیں صرف انہی پر نظر رکھنے کے بجائے، آپ اُن چیزوں کو دیکھنا شروع کرتے ہیں جو موجود ہیں: سانس لینے کی صلاحیت، سوچنے کی قوت، محسوس کرنے کی کیفیت، امید رکھنے کی طاقت، دعا کرنے کا موقع۔ جب نبی ﷺ کو مشکل پیش آتی تو وہ فرماتے: "ہہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔" (سنن ابن ماجہ 3803)۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ آسانی میں حمد شکر ہے، اور مشکل میں حمد اعتماد ہے۔
شکر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے درد کا انکار کریں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ درد کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ آپ کو اُس رحمت سے اندھا کر دے جو اب بھی آپ کے اردگرد موجود ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ طوفان میں کھڑے ہوں، مگر پھر بھی یاد رکھیں کہ طوفان کو قابو کرنے والا بھی اللہ ہے، اور وہی اپنی رحمت سے آپ کو پناہ بھی دے رہا ہے۔
حاصلِ کلام: الحمدللہ صرف ایک جملہ نہیں جو آپ نعمت ملنے کے بعد کہیں؛ یہ دیکھنے کا ایک انداز ہے۔ یہ آپ کو زندگی کے راستے پر اس یقین کے ساتھ چلنا سکھاتا ہے کہ چاہے حالات بدل جائیں، آپ کا رب ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے: حکمت والا، ثابت، اور ہر حال میں تعریف کے لائق۔
حدیث
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب کوئی اچھی چیز ( یا اچھی صورت حال ) دیکھتے تو فرماتے: ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ ) "سب تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کے فضل و انعام سے نیک کام ( اور مقاصد ) پورے ہوتے ہیں ۔" اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز ( یا بری صورت حال ) سامنے آتی تو فرماتے : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ) "ہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔"
(سنن ابن ماجہ 3803)
عملی سرگرمی
عمل:
آج چند پُرسکون لمحے نکالیں اور تین ایسی نعمتوں کی نشاندہی کریں جن کے بارے میں آپ تقریباً کبھی غور نہیں کرتے۔ مثلاً پڑھنے کی صلاحیت، گھر کی حفاظت، یا کوئی ایسا شخص جو ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ ہرایک کے بعد رک کر دل کی حاضری کے ساتھ کہیں: 'الحمدللہ، تو ہی واقعی ہر چیز کا رب ہے۔'
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ آپ کی نظر کو تربیت دیتا ہے کہ آپ اُن چیزوں میں بھی اللہ کی رحمت کو پہچانیں جنہیں آپ نے “عام” سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
یہ دل میں موجود شکوہ اور دوسروں سے موازنہ کرنے کی عادت کو کم کرتا ہے اور اس کی جگہ شکرگزاری پیدا کرتا ہے۔
یہ خالص ذکر کے ذریعے آپ کے اور اللہ کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔
دعا
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ، وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ
اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔ اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے۔
(قرآن 46:15)
تدبر کا سوال
جب آپ اپنے دن یا نماز کی شروعات “الحمدللہ” سے کرتے ہیں، عادت کے طور پر نہیں بلکہ ایک شعوری فیصلے کے طور پر کہ آپ اپنی زندگی کو اللہ کی نعمتوں کے زاویے سے دیکھیں تو آپ کے دل کے اندر کیا تبدیلی آتی ہے؟