Back to Learning Plan
دلوں کی کشادگی: سورۃ الفاتحہ سے اسباق
Day 1: الٰہی تعارف
قرآنی آیت
سبق اور تدبر
سورۃ الفاتحہ وہ پہلی مکمل سورت ہے جو نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی، اور یہی قرآن کا آغاز ہے اور ہر نماز کی ابتداء بھی۔ یہ ایک نہایت نرم مگر طاقتور دعوت کے ساتھ شروع ہوتی ہے: "اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔" کسی حکم، کسی قصے یا کسی تنبیہ سے پہلے، اللہ ہمیں سکھاتا ہے کہ آغاز کیسے کرنا ہے، ایسا آغاز جو ہر دوسرے آغاز کے لائق ہو۔
بسم اللہ کوئی رسمی جملہ نہیں۔ یہ دل کی ایک کیفیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے: اپنے نام، اپنی طاقت، اپنی منصوبہ بندی یا اپنے خوف سے آغاز نہ کرو، بلکہ اللہ کے نام سے شروع کرو۔ جب بھی آپ "بسم اللہ" کہتے ہیں، تو گویا آپ یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں: "میں اس لمحے میں اکیلا داخل نہیں ہو رہا، بلکہ رحمان و رحیم کی نگہداشت اور نظر میں داخل ہو رہا ہوں۔"
یہ دونوں نام رحمت سے نکلے ہیں۔ الرحمن اللہ کی وسیع اور ہمہ گیر رحمت کو بیان کرتا ہے جو تمام مخلوق کو شامل کرتی ہے مومن اور غیر مومن، انسان اور جانور، ظاہر اور پوشیدہ۔ ہر سانس، ہر دھڑکن، ہر سورج کا طلوع الرحمن کی رحمت ہے۔
جبکہ الرحیم اس خاص اور مسلسل رحمت کو بیان کرتا ہے جو ان لوگوں کے لیے ہے جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ رحمت جو گناہوں کو معاف کرتی ہے، دلوں کو سکون دیتی ہے اور راستہ دکھاتی ہے۔
نبوت کے ابتدائی زمانے میں، جب وحی کا آغاز ہو رہا تھا اور مخالفت بڑھ رہی تھی، یہ آیت ایک بنیادی سبق سکھاتی ہے: ہدایت سختی سے نہیں بلکہ رحمت سے شروع ہوتی ہے، دوری سے نہیں بلکہ قرب سے۔ اللہ اپنے بندوں سے دور نہیں، بلکہ اس کی رحمت اور علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں۔ "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اہمیت والا ہر وہ کام بے برکت ہے جسے اللہ کی تعریف سے شروع نہ کیا جائے۔" (سنن ابن ماجہ 1894)
یعنی جب ہم اللہ کے بغیر شروع کرتے ہیں تو ہماری کوششیں جڑ سے کٹی شاخ کی طرح ہوتی ہیں۔ لیکن جب ہم اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں تو چھوٹے اعمال بھی وزنی ہو جاتے ہیں۔
حاصلِ کلام: بسم اللہ ایمان کو عمل میں بدل دیتا ہے۔ ہر وہ کام جو اللہ کے نام سے شروع ہو، عبادت بن جاتا ہے۔ یہ روزمرہ کے کاموں کو بھی عبادت میں بدل دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ جو آغاز اللہ کے نام سے ہو، وہ اس کی رحمت میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
حدیث
"اہمیت والا ہر وہ کام بے برکت ہے جسے اللہ کی تعریف سے شروع نہ کیا جائے۔"
(سنن ابن ماجہ 1894)
عملی سرگرمی
عمل:
آج ہر نئے کام سے پہلے تھوڑا سا رکیں: کھانا کھانے سے پہلے، گاڑی چلانے سے پہلے، موبائل کھولنے سے پہلے، کام شروع کرنے سے پہلے، پیغام بھیجنے سے پہلے حتیٰ کہ اس تعلیمی پروگرام کے اگلے سبق سے پہلے بھی! اور شعوری طور پر "بسم اللہ" کہیں۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
دن بھر اللہ کی یاد تازہ رکھتا ہے۔
چھوٹے کاموں میں بھی سکون، نیت اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں شعور اور شکر گزاری کو بڑھاتا ہے۔
دعا
بِسْمِ الله
اللہ کے نام سے
(حصن المسلم 12)
یہ ایک ایسی دعا ہے جو بہت سی دوسری دعاؤں کے آغاز میں آتی ہے، اور یہ اس بات کی اہمیت ظاہر کرتی ہے کہ ہر کام کی شروعات اللہ کے نام سے کی جائے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
بیت الخلاء میں داخل ہونے کے وقت:
(بِسْمِ الله) اللّهُـمَّ إِنِّـي أَعـوذُ بِـكَ مِـنَ الْخُـبْثِ وَالْخَبائِث
اللہ کے نام سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک چیزوں اور ناپاک جنات (نر و مادہ) سے۔
(حصن المسلم 10)
گھر سے نکلتے وقت:
بِسْمِ اللهِ ، تَوَكَّلْـتُ عَلى اللهِ وَلا حَوْلَ وَلا قُـوَّةَ إِلاّ بِالله
اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت مگر اللہ ہی کے ذریعے۔
(حصن المسلم 16)
گھر میں داخل ہوتے وقت:
بِسْـمِ اللهِ وَلَجْنـا، وَبِسْـمِ اللهِ خَـرَجْنـا، وَعَلـى رَبِّنـا تَوَكّلْـن (ثم ليسلم على أهله.)
اللہ کے نام سے ہم داخل ہوئے، اور اللہ کے نام سے ہم نکلے، اور ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ (پھر گھر والوں کو السلام علیکم کہیں)۔
(حصن المسلم 18)
صبح و شام کی اذکار میں سے:
بِسـمِ اللهِ الذي لا يَضُـرُّ مَعَ اسمِـهِ شَيءٌ في الأرْضِ وَلا في السّمـاءِ وَهـوَ السّمـيعُ العَلـيم (ثلاث مرات)
اللہ کے نام کے ساتھ (شروع کرتا ہوں) کہ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ (یہ دعا تین مرتبہ پڑھیں)۔
(حصن المسلم 86)
تدبر کا سوال
اگر آپ ہر بار "بسم اللہ" کہتے وقت واقعی چند لمحے رک کر یہ محسوس کریں کہ اللہ کی رحمت آپ کو گھیرے ہوئے ہے، تو آپ کا دن کس طرح مختلف محسوس ہوگا؟