Back to Learning Plan
مستقل مزاجی سے چھوٹے اعمال: جنت کا راستہ
Day 1: زبان کے خزانے
قرآنی آیت
حدیث
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر ( آخرت میں ) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں ’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ."
(صحیح بخاری، حدیث: 6682)
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
"جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا ( ترجمہ ) ” نہیں ہے کوئی معبود ، سوا اللہ تعالیٰ کے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کا ہے ۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔“ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا دی جائیں گی ۔ اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 3293)
اور سید الاستغفار (استغفار کی سب سے بہترین دعا):
" اے اللہ ! تو میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں ۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں ۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا ۔"
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا شام ہونے سے پہلے ، تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے ۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6306)
سبق اور تدبر
زبان بظاہر چھوٹی ہے مگر بہت طاقتور ہے۔ یہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے اور زخموں پر مرہم بھی رکھ سکتی ہے؛ یہ کسی کا دل دکھا بھی سکتی ہے اور اللہ کی عبادت بھی کر سکتی ہے۔ اور اسی عاجز سے عضو کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جنت کا ایک آسان ترین اور گہرا دروازہ کھول دیا ہے۔
ذکرِ الٰہی محض الفاظ کی تکرار کا نام نہیں، بلکہ یہ خود اللہ سے جڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہر بار "سبحان اللہ" کہنا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔ ہر "الحمدللہ" اس کی کاملیت کی تعریف اور شکر گزاری کا اظہار ہے۔ ہر "اللہ اکبر" اس کی بڑائی بیان کرنا ہے، جو آپ کو آپ کی پریشانیوں سے بلند کر دیتا ہے۔
اور توحید کا کلمہ "لا الہ الا اللہ" ایمان کی بنیاد ہے۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جس کی جڑیں روح کو مضبوط کرتی ہیں اور جس کے پھل جنت کے باغوں کو بھر دیتے ہیں۔ اسے ایک بار بھی خلوصِ دل سے کہنا بہت بڑی بات ہے، اور اس پر مداومت اختیار کرنا (مستقل پڑھنا) زندگی بدل دیتا ہے۔
ذکر کی عظیم ترین صورتوں میں سے ایک "سید الاستغفار" ہے، جسے"استغفار کی سب سے بہترین دعا" کہا جاتا ہے۔ یہ اعترافِ گناہ، توبہ اور بندگی کا مجموعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا ہے جو خلوصِ دل سے اسے صبح و شام پڑھے۔ بھلا وہ کیسی رحمت ہے جو محض ایک سادہ اور پر خلوص جملے کے ذریعے جنت کے دروازے کھول دیتی ہے؟
ان کلمات کو ادا کرنے کے لیے نہ وقت چاہیے، نہ دولت اور نہ ہی جسمانی مشقت؛ بس خلوص اور مستقل مزاجی درکار ہے۔ جب یہ کلمات آپ کے روزمرہ کے ساتھی بن جاتے ہیں، تو یہ آپ کے نامہ اعمال کو خوبصورت اور آپ کے دل کو پاک کر دیتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
ذکرِ الٰہی زبان پر ہلکا لیکن (اعمال کے) ترازو میں بہت بھاری ہے۔
سید الاستغفار جنت کی طرف لے جانے والا ایک روزانہ کا راستہ ہے۔
یہ کلمات شیطان سے بچاؤ کے لیے ڈھال، دل کی پاکیزگی کا ذریعہ اور آخرت کو سنوارنے والے ہیں۔
عملی سرگرمی
آج کے دن یہ تسبیحات پڑھیں:
سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ (100 مرتبہ)
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (100 مرتبہ)
سید الاستغفار صبح اور شام، دل کی حضوری (توجہ) کے ساتھ پڑھیں۔
تدبر کا سوال
ذکر کا وہ کون سا کلمہ ہے جسے میں اپنی روزمرہ کی روحانی عادت بنانا چاہتا/چاہتی ہوں، اور وہ کون سی چیز ہے جو مجھے ایسا کرنے سے روکتی ہے؟