Back to Learning Plan
اللہ ہمیں کیوں آزماتا ہے: آزمائشوں میں قوت اور حکمت تلاش کرنا
Day 5: مشکلات کے بعد شفا
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
. ہر آزمائش کے بعد ایک نورانی کیفیت ہوتی ہے: ایک ایسا لمحہ جب طوفان تھم جاتا ہے اور دل کا آسمان صاف ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ بوجھ جو کبھی ناقابلِ برداشت لگتا تھا، اب نئی قوت کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اللہ کا وعدہ صرف یہ نہیں ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ہے، بلکہ یہ ہے کہ آسانی تنگی کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ آسانی وہ چیز نہیں ہے جو درد ختم ہونے کے بعد آتی ہے، بلکہ یہ خود اسی درد کے اندر چھپی ہوتی ہے۔
جب اللہ کسی مومن کو آزماتا ہے، تو وہ اسے توڑتا نہیں ہے؛ بلکہ وہ اس کے دل کو اپنی طرف واپس موڑ رہا ہوتا ہے۔ دباؤ میں لچک جانے والی شاخ کی طرح، جو دل اللہ کی طرف جھک جاتا ہے، وہ خود کو درست سمت میں، پاکیزہ اور مضبوط پاتا ہے۔ آزمائشیں وہموں کو مٹا دیتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمارا اصل سہارا کون ہے۔
بہت سے اہل ایمان سختیوں سے نکلنے کے بعد پہلے سے زیادہ ہمدرد، باعمل اور بیدار ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر عارضی سکون کے پیچھے نہیں بھاگتے کیونکہ انہوں نے صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی مٹھاس چکھ لی ہوتی ہے۔ ہر آزمائش کی چھپی ہوئی فتح یہی ہے کہ آپ اس سے صرف زندہ سلامت ہی نہیں نکلتے، بلکہ ایمان کی تازگی کے ساتھ نکلتے ہیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کو دیکھیں؛ انہوں نے صحت، دولت اور خاندان سب کچھ کھو دیا، مگر ایمان کبھی نہیں کھویا۔ ان کی دعا شکایت نہیں بلکہ توکل کا اعتراف تھی: "کہ مجھے بہت زیادہ تکلیف پہنچی ہے اور تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔" (قرآن 21:83)۔ جب اللہ نے ان کی نعمتیں بحال کیں، تو وہ محض تلافی نہیں تھی، بلکہ ان کے درجات کی بلندی تھی۔
اسی طرح، ہر وہ مومن جو صبر اور توکل کے ساتھ برداشت کرتا ہے، اسے محض آزمایا نہیں جا رہا بلکہ اس کے درجات بلند کیے جا رہے ہیں۔ تکلیف عارضی ہے، لیکن وہ پاکیزگی جو یہ لاتی ہے، ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔
جب آپ اپنی پیش آنے والی سختیوں پر غور کرتے ہیں، تو شاید آپ کو زخموں کے نشان نظر آئیں، لیکن اللہ آپ کا خلوص دیکھتا ہے۔ آپ کا ہر وہ آنسو جو تنہائی میں گرا، وہ ریکارڈ کیا گیا۔ آپ کی ہر آہ سنی گئی۔ ہر وہ لمحہ جب آپ نے مایوسی کا مقابلہ کیا، وہ آپ کے ایمان کی گواہی بن گیا۔
حاصل کلام: جو چیز آج آپ کو توڑ رہی ہے، ہو سکتا ہے وہی ایک دن آپ کے اللہ کے حضور مزید عاجزی اور سکونِ قلب کے ساتھ جھکنے کا سبب بن جائے۔ آزمائش ختم ہو جاتی ہے، لیکن (کردار میں آنے والی) تبدیلی باقی رہتی ہے۔
حدیث
"اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔"
(صحیح البخاری 5645)
عملی سرگرمی
عمل:
آج کسی ایسے شخص سے رابطہ کریں جو کسی مشکل سے گزر رہا ہو۔ اسے تسلی کے چند مخلصانہ الفاظ کہیں، یا ان کا ذکر کیے بغیر تنہائی میں ان کے لیے دعا کریں۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ آپ کی اپنی تکلیف کو دوسروں کے لیے ہمدردی اور شفقت میں بدل دیتا ہے۔
یہ احساسِ ہمدردی کو جلا بخشتا ہے اور آپ کو یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک امت ہیں۔
یہ ذاتی جدوجہد کو اجتماعی رحمت میں بدل دیتا ہے، جس سے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔
دعا
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ
اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔ اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے۔
(قرآن 46:15)
تدبر کا سوال
آپ کی ماضی کی آزمائشوں نے آپ کے دل، آپ کے ایمان یا اللہ کے ساتھ آپ کے تعلق کو کیسے بدلا ہے؟ آپ نے ان سے کون سی نئی حکمت یا طاقت حاصل کی؟