Back to Learning Plan
اللہ ہمیں کیوں آزماتا ہے: آزمائشوں میں قوت اور حکمت تلاش کرنا
Day 2: مشکلات میں چھپی رحمت
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
ہر آزمائش اپنے پیچھے ایک ایسی رحمت چھپائے ہوئے ہوتی ہے جسے (انسانی) آنکھ فی الحال دیکھ نہیں سکتی۔ جسے ہم کسی دروازے کا بند ہونا سمجھتے ہیں، وہ اکثر 'حکمتِ الٰہی' کی طرف سے ایک نرم سا موڑ ہوتا ہے۔ مومن کا کام پوری تصویر کو دیکھنا نہیں ہے، بلکہ اس ذات پر بھروسہ کرنا ہے جو اپنے بندوں میں سے بہترین جوہر نکالنے کے لیے بہترین آزمائشوں کا انتخاب کرتی ہے۔
ہم اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ آسانی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہے اور سختی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ناراض ہے۔ مگر قرآن ہمیں اس کے برعکس سکھاتا ہے: "ہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو…"۔ یہ آیت ایک گہری حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ اچھے اور برے کے بارے میں ہمارا ادراک ہمارے وقتی جذبات تک محدود ہے، جبکہ اللہ کی حکمت ازل سے ابد تک پھیلی ہوئی ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں سوچیں۔ جب انہیں دھوکہ دیا گیا اور جیل میں ڈالا گیا، تو یہ بظاہر مکمل نقصان نظر آتا ہو گا۔ لیکن وہی قید ان کے بلند درجات اور اپنے خاندان سے دوبارہ ملاپ کا ذریعہ بنی۔ جسے ہم رد کیا جانا سمجھ رہے تھے، وہ دراصل اللہ کی طرف سے عظیم تر عزت کی جانب ایک نئی سمت کا تعین تھا۔
اسی طرح، نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو طائف میں بدترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے فوراً بعد آپ ﷺ کو 'اسراء اور معراج' کے معجزاتی سفر سے نوازا گیا۔ تکلیف سے بلندی پیدا ہوئی اور سختی سے آسانی نکلی، بالکل ویسا ہی جیسا اللہ نے سورہ الشرح میں وعدہ فرمایا ہے۔
آج جب ہم دنیا میں جنگ زدہ علاقوں کی تکالیف، ناانصافی اور بے بسی کو دیکھتے ہیں، تو یہ ناقابلِ برداشت محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ کی حکمت کبھی غائب نہیں ہوتی۔ سختیاں اکثر اتحاد، ہمدردی اور دلوں کی بیداری کا سبب بنتی ہیں۔ یہ وہموں کو مٹا دیتی ہیں اور ہمیں اس ذات پر اپنے انحصار کی یاد دلاتی ہیں جو کبھی ناکام نہیں ہونے دیتا۔
ایمان کا مطلب یہ یقین رکھنا ہے کہ ہر تاخیر، ہر نقصان، اور ہر وہ دعا جو ان طریقوں سے قبول ہوئی جو ہمیں نظر نہیں آتے، وہ 'رحیم' کی طرف سے بہترین وقت پر طے شدہ ہے۔ رحمت اکثر درد کی تہوں میں چھپی ہوتی ہے، اور اس دل کا انتظار کرتی ہے جو اسے تلاش کرنے کے لیے کامل توکل رکھتا ہو۔
حاصل کلام: جو چیز آج تلخ محسوس ہو رہی ہے، ہو سکتا ہے وہی کل آپ کی سب سے بڑی نعمت کا بیج ثابت ہو۔ اللہ کی رحمت اکثر بھیس بدل کر آتی ہے، لیکن وہ آتی ضرور ہے۔
حدیث
"مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کرتا ہے ، یہ ( بھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے۔"
(صحیح مسلم 2999)
عملی سرگرمی
عمل:
جب آپ کو اپنی ماضی کی کوئی سختی یا مشکل یاد آئے، تو خاموشی سے غور کریں اور کم از کم ایک ایسی چھپی ہوئی رحمت یا سبق تلاش کریں جو اس میں پوشیدہ تھا۔ پھر کہیں: "اے اللہ! تیرا شکر ہے اس بات پر جو تو جانتا تھا اور میں نہیں جانتا تھا۔"
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ ذہن کو صرف سکون تلاش کرنے کے بجائے اللہ کی حکمت تلاش کرنے کا عادی بناتا ہے۔
یہ تکلیف پر بھی شکر گزاری کا مادہ پیدا کرتا ہے، جس سے (ماضی کے حالات پر) دل کی کدورت ختم ہوتی ہے۔
یہ اس اعتراف کے ذریعے توکل کو گہرا کرتا ہے کہ اللہ ہی شروع سے سب سے بہتر جاننے والا تھا۔
دعا
اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا
اے اللہ! ہماری مصیبت ہمارے دین میں نہ ڈال، اور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا غم نہ بنا۔
(جامع الترمذی: 3502)
تدبر کا سوال
کیا آپ کو اپنی زندگی کا کوئی ایسا لمحہ یاد ہے جب کسی تکلیف دہ امر نے بعد میں خود کو ایک رحمت کے طور پر ظاہر کیا ہو؟ یہ بات آپ کو اللہ کی حکمت اور اس کے وقت کے تعین پر بھروسہ کرنے کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟