Back to Learning Plan
اللہ ہمیں کیوں آزماتا ہے: آزمائشوں میں قوت اور حکمت تلاش کرنا
Day 1: یہ الٰہی عنایت کی نشانیاں ہیں، ناکامی کی نہیں
قرآنی آیات
سبق اور تدبر
جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے، خواہ وہ ہماری ذاتی زندگی میں ہو یا پوری امت پر، تو اکثر یہ سرگوشی زبان پر آ جاتی ہے کہ "میں ہی کیوں؟ یا ہم ہی کیوں؟" حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے ہمیں یاد دلایا ہے کہ آزمائشیں چھوڑ دیے جانے کی علامت نہیں بلکہ اس کی توجہ کا نشان ہیں۔ جس شخص کو اللہ آزماتا ہے، درحقیقت وہ اس کی پرورش کر رہا ہوتا ہے، اسے نکھار رہا ہوتا ہے اور اسے کسی بڑے مقصد کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔
سورہ العنکبوت کی آیت اس وہم کو ختم کر دیتی ہے کہ ایمان سختیوں کے خلاف کوئی ڈھال ہے۔ اس کے برعکس، ایمان ہی تو آزمائش کی اصل وجہ ہے، کیونکہ سچے ایمان کو محض زبان سے بیان نہیں کیا جاتا بلکہ اسے جی کر دکھایا جاتا ہے۔ جس طرح سونے کو آگ کے ذریعے پاک کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح ایمان بھی آزمائشوں کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ تپش کے بغیر سونا ملاوٹ سے پاک نہیں ہوتا، اسی طرح آزمائشوں کے بغیر روح بھی دنیاوی وابستگیوں، تکبر اور غفلت کے بادلوں میں گھری رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے کہ وہ ہمیں "کسی قدر خوف اور بھوک" (قرآن 2:155) سے ضرور آزمائے گا، جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزمائش ہمیشہ نپی تلی ہوتی ہے، یہ محض کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں، اور نہ ہی یہ ہماری برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ ہر آزمائش اللہ کی رحمت کے عین مطابق ہوتی ہے تاکہ کسی گہرے زخم کو بھرا جا سکے یا اندر سوئی ہوئی کسی صلاحیت کو بیدار کیا جا سکے۔
انبیاءِ کرام کی زندگیوں کو دیکھیں: حضرت یوسف علیہ السلام کو قیادت کے منصب پر فائز کرنے سے پہلے کنویں میں ڈالا گیا؛ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک قوم کی رہنمائی سے پہلے ہجرت و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا؛ اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے مخالفت، بھوک اور جنگوں کا سامنا کیا، مگر ہر آزمائش اللہ کے قرب میں بلندیِ درجات کا ایک زینہ تھی۔
جب دنیا ناانصافی سے تپ رہی ہو اور امت ظلم کی چکی میں پس رہی ہو، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ غافل نہیں ہے۔ وہ دلوں کو پاک کر رہا ہے، انہیں بیدار کر رہا ہے اور ایک نئی تبدیلی کے لیے تیار کر رہا ہے۔ آزمائشیں اللہ کا وہ فیصلہ ہیں جو دکھوں سے طاقت اور افراتفری سے یقین کو جنم دیتی ہیں۔
حاصل کلام: جب آپ کی آزمائش کی جائے تو یہ جان لیں: اللہ نے اپنی حکمت سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ وہ بوجھ اٹھائیں جو شاید دوسرے نہ اٹھا سکیں، کیونکہ وہ آپ کی ہمت اور طاقت سے واقف ہے۔ آپ کی تکلیف کوئی سزا نہیں، بلکہ یہ ایک تیاری ہے۔
حدیث
"زیادہ ثواب بڑی آزمائش کا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان پر آزمائش ڈالتا ہے ۔ جو راضی رہے اسے رضا ملے گی ، اور جو ناراض ہو ، اسے ناراضی حاصل ہو گی۔"
(سنن ابن ماجہ 4031)
عملی سرگرمی
عمل:
آج جب کوئی چھوٹی سی بات آپ کو پریشان یا رنجیدہ کرے، تو ایک لمحے کے لیے رکیں اور غور کریں۔ پھر دھیمی آواز میں کہیں: "اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ" (ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں)۔
یہ عمل کیوں مفید ہے؟
یہ آپ کی توجہ شکایت کے بجائے قناعت اور شکر کی طرف موڑ دیتا ہے۔
یہ آپ کے دل کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہر لمحے موجود ہے، یہاں تک کہ تکلیف دہ لمحات میں بھی۔
یہ روح کو اس بات کی تربیت دینا شروع کر دیتا ہے کہ وہ رحمت کو صرف مشکل کے بعد ہی نہیں، بلکہ مشکل کے دوران بھی دیکھ سکے۔
دعا
إِنّا للهِ وَإِنَا إِلَـيْهِ راجِعـون ، اللهُـمِّ اْجُـرْني في مُصـيبَتي، وَاخْلُـفْ لي خَيْـراً مِنْـها
ہم اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری اس مصیبت سے نکال دے اور اس کے بعد مجھے اس سے بہتر عطا فرما۔
(حصن المسلم: 154)
تدبر کا سوال
جب آپ کو کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے، تو کیا آپ فطری طور پر اسے سزا سمجھتے ہیں یا پاکیزگی کی ایک صورت؟ اگر آپ ہر آزمائش کو اللہ کے قریب ہونے کی ایک مخصوص دعوت کے طور پر دیکھیں، تو سختیوں پر آپ کے ردعمل میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے؟