الذاريات 51:52 كذالك ما اتى الذين من قبلهم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون ٥٢
كَذٰلِكَ
مَاۤ
اَتَی
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
مِّنْ
رَّسُوْلٍ
اِلَّا
قَالُوْا
سَاحِرٌ
اَوْ
مَجْنُوْنٌ
۟ۚ
۔ } اسی طرح (ہوتا آیا ہے کہ) نہیں آیا تھا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے