الأحقاف 46:17 والذي قال لوالديه اف لكما اتعدانني ان اخرج وقد خلت القرون من قبلي وهما يستغيثان الله ويلك امن ان وعد الله حق فيقول ما هاذا الا اساطير الاولين ١٧
وَالَّذِیْ
قَالَ
لِوَالِدَیْهِ
اُفٍّ
لَّكُمَاۤ
اَتَعِدٰنِنِیْۤ
اَنْ
اُخْرَجَ
وَقَدْ
خَلَتِ
الْقُرُوْنُ
مِنْ
قَبْلِیْ ۚ
وَهُمَا
یَسْتَغِیْثٰنِ
اللّٰهَ
وَیْلَكَ
اٰمِنْ ۖۗ
اِنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ ۖۚ
فَیَقُوْلُ
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّاۤ
اَسَاطِیْرُ
الْاَوَّلِیْنَ
۟
اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے) ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭…
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اخروی درجات کا اور وہاں نجات پانے اور اپنے رب کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس لیے اس کے بعد ان بدبختوں کا بیان ہ
اس دنیا کے طالب آخرت سے محروم ہوں گے ٭٭…
چونکہ اوپر ان لوگوں کا حال بیان ہوا تھا جو اپنے ماں باپ کے حق میں نیک دعائیں کرتے ہیں اور ان کی خدمتیں کرتے رہت