الأحقاف 46:21 ۞ واذكر اخا عاد اذ انذر قومه بالاحقاف وقد خلت النذر من بين يديه ومن خلفه الا تعبدوا الا الله اني اخاف عليكم عذاب يوم عظيم ٢١
وَاذْكُرْ
اَخَا
عَادٍ ؕ
اِذْ
اَنْذَرَ
قَوْمَهٗ
بِالْاَحْقَافِ
وَقَدْ
خَلَتِ
النُّذُرُ
مِنْ
بَیْنِ
یَدَیْهِ
وَمِنْ
خَلْفِهٖۤ
اَلَّا
تَعْبُدُوْۤا
اِلَّا
اللّٰهَ ؕ
اِنِّیْۤ
اَخَافُ
عَلَیْكُمْ
عَذَابَ
یَوْمٍ
عَظِیْمٍ
۟
ذرا اِنھیں عاد کے بھائی (ہُود ؑ)کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔۔۔۔اور1 ایسے خبردار کرنے والا اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اس کے بعد بھی آتے رہے۔۔۔۔ کہ ”اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ع
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبی