الأحقاف 46:22 قالوا اجيتنا لتافكنا عن الهتنا فاتنا بما تعدنا ان كنت من الصادقين ٢٢
قَالُوْۤا
اَجِئْتَنَا
لِتَاْفِكَنَا
عَنْ
اٰلِهَتِنَا ۚ
فَاْتِنَا
بِمَا
تَعِدُنَاۤ
اِنْ
كُنْتَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
قوم نے جواب دیا، کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں (کی پرستش) سے باز رکھیں1 ؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعده کرتے ہیں اسے ہم پر ﻻ ڈالیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبیاء کے واقعات یاد کر لیجئے کہ ان کی قوم نے بھی ان کی تکذیب کی عادیوں کے بھائی سے مراد ہود پیغمبر ہیں علیہ السلام والصلوۃ۔ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ع
قوم عاد کی تباہی کے اسباب ٭٭…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے تو آپ اگلے انبی