الأحقاف 46:32 ومن لا يجب داعي الله فليس بمعجز في الارض وليس له من دونه اولياء اولايك في ضلال مبين ٣٢
وَمَنْ
لَّا
یُجِبْ
دَاعِیَ
اللّٰهِ
فَلَیْسَ
بِمُعْجِزٍ
فِی
الْاَرْضِ
وَلَیْسَ
لَهٗ
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اَوْلِیَآءُ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا1 ، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے2، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭…
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حر
ایمان دار جنوں کی آخری منزل ٭٭…
اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو موسیٰ کے بعد نازل