الأحقاف 46:7 واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قال الذين كفروا للحق لما جاءهم هاذا سحر مبين ٧
وَاِذَا
تُتْلٰی
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتُنَا
بَیِّنٰتٍ
قَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لِلْحَقِّ
لَمَّا
جَآءَهُمْ ۙ
هٰذَا
سِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟ؕ
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں ک
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جات