الأحزاب 33:12 واذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرض ما وعدنا الله ورسوله الا غرورا ١٢
وَاِذْ
یَقُوْلُ
الْمُنٰفِقُوْنَ
وَالَّذِیْنَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
مَّا
وَعَدَنَا
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗۤ
اِلَّا
غُرُوْرًا
۟
اور اس وقت منافق اور وه لوگ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعده کیا تھا.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں کا فرار ٭٭…
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور ر
منافقوں کا فرار ٭٭…
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے