الأحزاب 33:13 واذ قالت طايفة منهم يا اهل يثرب لا مقام لكم فارجعوا ويستاذن فريق منهم النبي يقولون ان بيوتنا عورة وما هي بعورة ان يريدون الا فرارا ١٣
وَاِذْ
قَالَتْ
طَّآىِٕفَةٌ
مِّنْهُمْ
یٰۤاَهْلَ
یَثْرِبَ
لَا
مُقَامَ
لَكُمْ
فَارْجِعُوْا ۚ
وَیَسْتَاْذِنُ
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمُ
النَّبِیَّ
یَقُوْلُوْنَ
اِنَّ
بُیُوْتَنَا
عَوْرَةٌ ۛؕ
وَمَا
هِیَ
بِعَوْرَةٍ ۛۚ
اِنْ
یُّرِیْدُوْنَ
اِلَّا
فِرَارًا
۟
اور جب کہنے لگی ایک جماعت ان میں اے یثرب والو 1 تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں سو پھر چلو اور رخصت مانگنے لگا ایک فرقہ ان میں نبی سے کہنے لگے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں اور وہ کھلے نہیں پڑے ان کی کوئی غرض نہیں مگر بھاگ جانا 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں کا فرار ٭٭…
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے گھیرا ڈالے کھڑا ہے۔ اندرون شہر میں بغاوت کی آگ بھڑکی ہوئی ہے یہودیوں نے دفعۃً صلح توڑ کر بے چینی کی باتیں بنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ بس اللہ کے اور ر
منافقوں کا فرار ٭٭…
اس گھبراہٹ اور پریشانی کا حال بیان ہو رہا ہے جو جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کی تھی کہ باہر سے دشمن اپنی پوری قوت اور کافی لشکر سے