الأحزاب 33:14 ولو دخلت عليهم من اقطارها ثم سيلوا الفتنة لاتوها وما تلبثوا بها الا يسيرا ١٤
وَلَوْ
دُخِلَتْ
عَلَیْهِمْ
مِّنْ
اَقْطَارِهَا
ثُمَّ
سُىِٕلُوا
الْفِتْنَةَ
لَاٰتَوْهَا
وَمَا
تَلَبَّثُوْا
بِهَاۤ
اِلَّا
یَسِیْرًا
۟
اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھُس آئے ہوتے اور اُس وقت اِنہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی1 تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریکِ فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭…
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭…
جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب