الأحزاب 33:5 ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا اباءهم فاخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما اخطاتم به ولاكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما ٥
اُدْعُوْهُمْ
لِاٰبَآىِٕهِمْ
هُوَ
اَقْسَطُ
عِنْدَ
اللّٰهِ ۚ
فَاِنْ
لَّمْ
تَعْلَمُوْۤا
اٰبَآءَهُمْ
فَاِخْوَانُكُمْ
فِی
الدِّیْنِ
وَمَوَالِیْكُمْ ؕ
وَلَیْسَ
عَلَیْكُمْ
جُنَاحٌ
فِیْمَاۤ
اَخْطَاْتُمْ
بِهٖ ۙ
وَلٰكِنْ
مَّا
تَعَمَّدَتْ
قُلُوْبُكُمْ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
غَفُوْرًا
رَّحِیْمًا
۟
(لہٰذا) انہیں پکارا کرو ان کے باپوں کی نسبت سے یہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں کے بارے میں پتا نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ اور اس معاملے میں تم سے جو خطا ہوئی ہے اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں لیکن تم لوگ جو کچھ اپنے دلوں کے ارادے سے کرو گے (اس کا ضرور احتساب ہوگا) اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭…
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔
بیان فرمایا کہ ” یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بی
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭…
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور