الأحزاب 33:72 انا عرضنا الامانة على السماوات والارض والجبال فابين ان يحملنها واشفقن منها وحملها الانسان انه كان ظلوما جهولا ٧٢
اِنَّا
عَرَضْنَا
الْاَمَانَةَ
عَلَی
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَالْجِبَالِ
فَاَبَیْنَ
اَنْ
یَّحْمِلْنَهَا
وَاَشْفَقْنَ
مِنْهَا
وَحَمَلَهَا
الْاِنْسَانُ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
ظَلُوْمًا
جَهُوْلًا
۟ۙ
ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اورا س سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے یہ ہے بڑا بے ترس نادان 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرائض، حدود امانت ہیں ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔“ اسے آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلا
فرائض، حدود امانت ہیں ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔“ اسے آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسم